Get Adobe Flash player

أ- زکاۃ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاطریقہ:

1- آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے زکوۃ کا انتہائی کامل ترین نظام پیش کیا ہے.اس کے وجوب کا وقت ,اس کی مقدار,اس کے نصاب ,کن پرواجب ہوتی ہے, اوراسکے مصارف کیا ہیں,-ان سب کی پوری وضاحت فرمادی ہے- مالداروں اورمسکینوں کے مصالح اورضروریات کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے.اورمالداروں کے مال میں بغیرظلم کے اتنا ہی زکوۃ واجب کیا جتنے سے فقیروں کی ضرورت پوری ہوسکے.

2- آپ  (صلى الله عليه وسلم)کی سنت طیبہ یہ تھی کہ جس کوزکاۃ کامستحق جانتے اس کوزکوۃ دیدیتے تھے اوراگرآپ سے کوئی ایسا شخص سوال کرتا جس کی حالت کے بارے میں نہیں جانتے تواس کوبھی یہ بتا کردیدیتے تھے کہ اس زکاۃ میں مالداراورطاقتورکمائی کرنے کے قابل شخص کا اس میں  کوئی حصہ نہیں ہے.

3- آپ  (صلى الله عليه وسلم)کی عادت طیبہ یہ تھی کہ جس علاقے کی زکوۃ جمع ہوتی وہیں کے مستحقین میں تقسیم کرتے تھے,اورجوان میں تقسیم کے بعد بچ جاتی تواسے منگواکردوسری جگہ تقسیم کردیتے تھے.

4- آپ  (صلى الله عليه وسلم)عاملین کوچوپایوں , پھلوں اورفصلوں  جیسے ظاہری اموال کے مالکین کی طرف  ہی بھیجتے تھے .

5- آپ  (صلى الله عليه وسلم) کھجوروں اورانگوروں کے مالکین کے پاس پھلوں کا اندازہ کرنے والے کوبھیجتے تھےاوروہ اندازہ کرتا تھا کہ اس میں کتنا وسق(وسق60 صاع کا ہوتا ہے) پھل آئے گا, پھراسی کے مطابق ان پر زکو'ۃ متعین کرتے تھے.

6- نبی کریم  (صلى الله عليه وسلم)کی سنت طیبہ تھی کہ آپ سواری کے گھوڑے , خدمت کے غلام ,لادنے کے خچراورگدھے,سبزیں اورایسے تمام پھلوں سے زکوۃ نہ لیتے تھے جوناپے یا ذخیرہ نہیں کئے جاسکتے,البتہ انگوراورکھجورمیں سے زکوۃ لیتے تھے,اورخشک اورترمیں فرق نہیں کرتے تھے.

7- نبی کریم  (صلى الله عليه وسلم)کا زکو'ۃ کی مد میں اچھا اچھا مال چھانٹ لینے کا دستورنہ تھا, بلکہ اوسط درجہ کا مال لیتے تھے.

8- آپ  (صلى الله عليه وسلم)صدقہ کرنے والوں کو اپنے صدقہ کا ہی مال یا سامان خریدنے سے منع فرماتے تھے,-اگرکوئی فقیرکسی مالدارکوصدقہ کا مال ہدیہ کے طورپردیتا توآپ اسے کھالینے کی اجازت دیتے تھے.

9- آپ  (صلى الله عليه وسلم)کبھی کبھی زکو'ۃ وصدقہ کے مد میں سے مسلمانوں کے فائدے اوررفاہی کاموں کے لئے قرض لیتے تھے, اورضرورت کے وقت آپ زکو'ۃ وقت سے  پہلے لیتے تھے. (جیساکہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے حضرت عبا س رضی اللہ عنہ سے دوسال کی پیشگی زکوۃ لے لی تھی).

10- جب کوئی شخص آپ  (صلى الله عليه وسلم)کے پاس زکوۃ لے کرآتا توآپ اس کے لئےیہ دعا کرتےتھے :"اے اللہ اس میں اوراس کے اونٹوں میں برکت دے" (نسائی) اورکبھی فرماتے:"اللّہم صل علیہ " اے اللہ اس پررحمت نازل فرما (متفق علیہ).

ب- زکاۃ فطر(صدقہ فطر)میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ(2)

1- آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے صدقہ فطرمیں ایک صاع کھجور,یا جو,یا پنیر,یا کشمش فرض قراردیا تھا.

2- آپ  (صلى الله عليه وسلم)کی سنت طیبہ یہ تھی کہ صدقہ فطرنمازعید سے پہلے نکال دی جائے اورآپ  (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا :"جس نے اسے نمازسے پہلے ادا کیا وہ صدقہ مقبولہ ہے اورجس نے نمازکے بعد اداکیا تووہ ایک عام صدقہ ہے." (ابوداود)

3- صدقہ فطرمیں آپ  (صلى الله عليه وسلم)کی سنت طیبہ یہ تھی کہ آپ اسے فقراء ومساکین کے لئے خاص فرماتے تھے اورزکو'ۃ کے آٹھوں مصارف میں سے کسی مصرف میں نہیں دیتےتھے

ج- نفلی صدقہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ(3)

1- نبی کریم  (صلى الله عليه وسلم)کے نفلی صدقات میں سنت طیبہ یہ تھی کہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) کے پاس جوکچہ بھی ہوتا صدقہ کردیتے تھے,اورآپ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ صدقہ وخیرات کرنے والے تھے.

2- آپ (صلى الله عليه وسلم) سے جوبھی کسی چیزکاسوال کرتا تواسےعطا فرمادیتے تھےچاہے وہ چیزتھوڑی ہوتی یازیادہ. 

3- اورلینے والے کو حاصل کرنے میں جتنی خوشی ہوتی تھی اس سے زیادہ خوشی آپ  (صلى الله عليه وسلم) کودینے میں ہوتی تھی.

4- جب کوئی محتاج آپ  (صلى الله عليه وسلم) کے سامنے آجاتا توآپ  (صلى الله عليه وسلم) اپنے نفس پرا سے ترجیح دیتے تھے کبھی اپنے کھانے کے ذریعہ توکبھی اپنے لباس کے ذریعہ.

5- آپ (صلى الله عليه وسلم) سے ملنے والے خود سخاوت وفراخد لى پرمجبورہوجاتے تھے.

6- آپ  (صلى الله عليه وسلم)کے عطایا وصدقات کی مختلف نوعیتیں ہوتی تھیں, کبھی ہدیہ دیتے, کبھی صدقہ دیتے,کبھی ہبہ کرتے, کبھی کوئی چیزخریدتے پھربائع کووہ چیز اورقیمت دونوں دیدیتے تھے.اورکبھی قرض لیتے پھراس سے زیادہ واپس کر دیتے, کبھی کسی سے ہدیہ قبول کرتے توکسی نہ کسی طریقہ سے اسکا بدلہ اس سے زیادہ (یا اچھا )  دیتے تھے.

___________________

(1) زادالمعاد( 2/5)

(2) زادالمعاد (2/18) 

(3) زادالمعاد (2/21)

منتخب کردہ تصویر

muhammad (la pas sea con el), profeta de la misericordia