Get Adobe Flash player

أ- عمرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ:

1- آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے چارمرتبہ عمرہ کیا:

پہلا: عمره حدیبیہ کا تھا,اور اسوقت مشرکوں  نے آپ کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روک دیا تھا,توآپ جس جگہ پرروک دیے گئے وہیں قربانی نحروحلق کرکے حلال ہوگئے.

دوسرا: عمرہ قضاء ,جسکوآپ نے حدیبیہ کے بعد والے سال کیا.

تیسرا: حج كے ساتہ عمرہ کیا.

چوتھا:  مقام جعرانہ سے عمرہ کیا.

2- آپ  (صلى الله عليه وسلم)کے عمروں میں سے  کوئی بھی عمرہ مکہ سے باہر نکل کر نہیں تھا بلکہ سب کے سب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے ہوئے تھا.

3- آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے سال میں صرف ایک عمرہ کیاہے, دومرتبہ سال میں عمرہ کرنا آپ  (صلى الله عليه وسلم) سے ثابت نہیں ہے.

4- آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے سارے عمرے حج کے مہینے ہی میں کئے.

5- آپ  (صلى الله عليه وسلم)  کا فرمان ہے: " رمضان کا عمرہ حج کے برابرہوتا ہے."( متفق علیہ)

ب- حج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ(2):

1- جب حج کی فرضیت نازل ہوئی توبغیرکسی تاخیرکے رسول  (صلى الله عليه وسلم)حج کے لئے تیارہوگئے,آپ نے صرف ایک حج کیا اوروہ حج قران تھا.

2- آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ظہرکی نمازکےبعد احرام باندھا,پھرآپ نے ان الفاظ سے تلبیہ کہا:"لبيك اللّهم لبيك ,لبيك لاشريك له لبيك,إن الحمد والنعمة لك والملك لاشريك له"(مسلم)

اے اللہ میں حاضرہوں,حاضر ہوں,تیراکوئی شریک نہیں,میں حاضرہوں,ہرطرح کی تعریف اورنعمتیںتیرے ہی لئے ہیں,حکومت بھی تیری ہی ہے ,تیراکوئی ساجھی نہیں.

یہ تلبیہ آپ نےبآوازبلند کہا یہاں تک کہ تمام صحابہ نے اسے سن لیا,آپ نے حسب فرمان باری تعالى' انہیں یہ حکم دیا کہ وہ بھی بلند آوازسے تلبیہ کہیں.آپ تلبیہ پکارتے رھے اورصحابہ کرام بھی قدرے کمی وزیادتی کے ساتہ اس کو دھراتے رہے لیکن آپ نے کسی پرنکیرنہ فرمائی.

3- آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے صحابہ کرام کوحج کی تینوں قسموں ,قران تمتع ,افراد جس کا وہ چاہیں احرام باندھنے کا اختیاردیدیا تھا. پھرمکہ سے قریب ہونے کے وقت قربانی کا جانورساتہ نہ رکھنے والے حضرات کو حکم دیا کہ عمرہ کرکے احرام کھول دیں اورحج قران کی نیت ختم کردیں

4- یہ سفرحج آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے سواری پرکیا ,کجاوہ اورہودج وغیرہ نہیں تھا, اورآپ کا زاد راہ سامان وغلہ اسی سواری ہی پرتھا. (کجاوہ اورہودج وغیرہ میں بیٹھنے پرعلماء میں قدرے اختلاف ہے )

پھرجب آپ  (صلى الله عليه وسلم) مکہ مکرمہ پہنچ گئے توجن کے پاس قربانی کا جانورنہ تھا,انہیں لازمی طورپرحکم دیدیا کہ اسے عمرہ میں تبدیل کردیں اورعمرہ کے بعد حلا ل ہوجائیں, اورجس کے پاس جانورہو تووہ احرام میں رہیں, پھرآپ مقام ذی طوی'(جوزاہرکے کنووں سے مشہورہے) پرپہنچے,وہا ں چارذی الحجہ اتوار کی شب گزاری اورفجرکی نمازادا کرکے غسل فرمایا, اورمکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوگئے,مکہ میں آپ (صلى الله عليه وسلم) حجون سےمتصل ثنیۃ العلیا کی جانب سےدن کے وقت داخل ہوئے   .

جب آپ  (صلى الله عليه وسلم) مسجد حرام میں داخل ہوئے توبیت اللہ کے پاس تشریف لائے,اورتحیتہ المسجد نہیں پڑھی(کیونکہ یہاں طواف ہی تحیتہ المسجد ہے)جب حجراسود کے بالمقابل ہوئے تواسے بوسہ دیا, اوراس کے پاس کوئی مزاحمت نہ فرمائی, پھرآپ دائیں ہوئے اوربیت اللہ کواپنےبائیں کیا, اورآپ نے باب کعبہ کے پاس کوئی دعا نہیں کی, نہ ہی پرنالہ کے نیچے اورنہ ہی کعبہ کی پشت اوراس کے ارکان (کونوں) کے پاس ہی کوئی دعا فرمائی.البتہ آپ سے دونوں رکنوں یعنی حجراسود اوررکن یمانی کے درمیان یہ دعا پڑھنا ثابت ہے :"ربنا آتنا في الدنيا حسنة,وفي الآخرة حسنة,وقنا عذاب النار"[ البقرة:201]

اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھلائی دے اورآخرت میں بھی بھلائی دے اورہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا-

آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے طواف کے درمیا ن اس کے علاوہ کوئی مخصوص دعا متعین نہیں کی ہے.

آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے اس طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا یعنی چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے ہوئے جلدی چلے اوراضطباع بھی کیا یعنی داہنا مونڈھا کھول کربائیں مونڈھے پرچادرڈالدی,اسطح دایاں کندھا کھلاہواتھا اوربایا ں ڈھکا ہوا تھا.

آپ  (صلى الله عليه وسلم) جب حجراسود کے سامنے ہوتے تواس کی طرف اشارہ کرتے يا اسے خمدار عصا  سے چھوکراسے بوسہ دیتے تھے.اوراللہ اکبرکہتے تھے.

اسی طرح آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے رکن یمانی کوچھوا لیکن اس کا بوسہ نہ لیا اورنہ ہی اسے چھونے کے بعد اپنے ہاتہ کا بوسہ لیا. جب طواف کعبہ سے فارغ ہوئے تومقام ابراہیم کے پیچھے آئےاوریہ آیت پڑھی:] وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى [ (سورة البقرة :125)  "اورمقام ابراہیم کو مصلى بنالیجئے ."

پھردورکعت نمازپڑھی ,اورمقام ابراہیم آپ کے اوربیت اللہ کے درمیا ن تھا.

پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ الکافرون اوردوسری رکعت میں سورہ اخلاص تلاوت فرمائی,نمازسے فارغ ہونے کے بعد حجراسود کے پاس تشریف لائےاوراس کا استلام کیا. پھرصفا کی طرف نکلے, جب اس سے قریب ہوئے تویہ آیت پڑھی:)  إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِ اللّهِ  [ (سورة البقرة:158)

"بے شک صفا اورمروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں."

پھرفرمایا :"أبدأ بما بدأ الله به" میں بھی اسی سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع کیا.

پھرکوہ صفا پرچڑھ کربیت اللہ کی طرف رخ کیا اور لا الہ الا اللہ  اوراللہ اکبرکہہ کریہ دعا پڑھی: "لاإله إلا الله وحده لاشريك له, له الملك ,وله الحمد,وهو على كل شيء قدير, ,لا إله إلا الله وحده, أنجزوعده, ونصرعبده, وهزم الأحزاب وحده"(داود ,ترمذی, نسائی ,ابن ماجہ)

الله واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں , اسی کیلئے بادشاہی ہے ,اوراسی کے لئے ستائش ہے اوروہی ہرچیزپرقادرہے ,اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں, اس نے اپنا وعدہ پورا کیا, اپنے بندہ کو فتحیاب کیا اورتمام جماعتوں کو تنہا شکست دی.

پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم) نے اس کے بیچ دعا فرمائی اوراس طرح تین مرتبہ  آپ نے یہ دعاء مذکورپڑھیں.

پھرسعی کرتے ہوئے مروہ کی طرف چلے, نشیب میں پہنچ کردوڑنے لگے (یہ دوڑنا دونوں سرسبزنشانوں کے بیچ تھا) یہاں تک کہ جب وادی سے نکل گئے اور اوپر چڑھنےٍ لگےتومعمول کے مطابق چلنے لگے.آپ نے سعی کا آغاز پیدل کیا, پھرآپ نے بھیڑ کیوجہ سے سوارہوکرسعی پوری کی.

جب آپ  (صلى الله عليه وسلم)مروہ پہنچتے تواس پرچڑھتے اوربیت اللہ کو سامنے کرکے اللہ کی تکبیروتوحید بیان کرتے یعنی اللہ اکبر اورلا الہ الا اللہ " پڑھتے اورآپ نے مروہ پروہی سب کچھ (دعائیں ) کیں جوصفا پرکیا , (لیکن آیت "ان الصفا" مروہ پرنہیں پڑھے)  .

جب آپ  (صلى الله عليه وسلم) مروہ کے پاس سعی مکمل کرچکے تو ان تمام لوگوں کوجن کے ہمراہ قربانی کے جانورنہ تھے ,ہدایت کی کہ اب احرام اتاردیں اورپوری طرح سے حلال ہوجائیں,چاہے وہ مفرد ہوں یا قارن ہوں .

اورچونکہ آپ  (صلى الله عليه وسلم)کے ساتہ قربانی کا جانورتھا اسلئے آپ حلال نہیں ہوئے اورفرمایا :" جو بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی اگرپہلے سے معلوم ہوتی توقربانی کا جانورساتہ نہ لاتا اورصرف عمرہ کا احرام باندھتا."( متفق علیہ)

اسی جگہ آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے بال منڈوانے والوں کے لئے تین مرتبہ اور بال چھوٹا کروانے والوں کے لئے ایک مرتبہ دعائے مغفرت فرمائی.

آپ  (صلى الله عليه وسلم)یوم ترویہ(8 ذی الحجہ) تک مکہ میں قیام کے دوران مسلمانوں کے ساتہ ظاہر مکہ میں اپنی منزل پرقصرنماز پڑھتے رھے.

یوم ترویہ یعنی 8 ذی الحجہ چاشت کے وقت اپنے ہمراہ لوگوں کے ساتھ منی' تشریف لے گئے , جنہوں نے احرام کھول دیا تھا وہ اپنے گھروں سے (حج کا) احرام باندھ کرنکلے,جب آپ منى' پہنچے تووہیں نزول فرمایا اورظہروعصرکی نمازاداکی اوروہیں شب گزاری, جب صبح ہوئی توعرفہ کو روانہ ہوئے , صحابہ کرام میں سے بعض تلبیہ کہ رہے تھے اوربعض تکبیر, آپ  (صلى الله عليه وسلم) دونوں کو سن رہے تھے مگرکچھ نہ کہتے تھے, آپ کے حکم سے آپ کے لئے نمرہ میں خیمہ لگایا گیا, -اورنمرہ یہ عرفہ کا حصہ نہیں ہے بلکہ عرفات کے مشرقی حصہ میں ایک گاؤں ہے- اس میں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے قیام فرمایا, سورج ڈھلنے کے بعد قصواء اونٹنی پرسوارہوکروادی عرنہ کے نشیبی حصہ تک گئے .اسی مقام سے سواری پربیٹھے ایک عظیم الشان خطبہ دیا جس میں آپ نے اسلامی اصول وقواعد کی وضاحت کی اورشرک وجاہلیت کے رسم ورواج کی تردید فرمائی,جان ومال, عزت وآبروکی حرمت کا اعلان فرمایا , جن کی حرمت پر دوسرے اہل مذاہب  بھی متفق  ہیں.

اسی خطبہ میں جاہلی معاملات اورسود کے خاتمہ کا اعلان فرمایا, اورانھیں عورتوں کے ساتہ حسن وسلوک کی تاکید فرمائی , اسی خطبہ میں آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے امت کو تمسک بالقرآن کا حکم دیا اورصحابہ سے اقراروگواہی لیا کہ آپ نے اللہ کے پیغام کو(یا احکام اسلا م بحسن وخوبی )  پہنچادیا ,اوررسالت کا حق ادا کردیاہے اورامت کی خیرخواہی فرمائی, اور اس بات پر اللہ کوگواہ بنایا.

جب آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے خطبہ ختم کیا توحضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا چنانچہ اذان اوراقامت ہوئی پھرآپ نے سری قراءت سے ظہرکی دورکعت اداکی اوریہ جمعہ کا دن تھا. پھردوبارہ اقامت ہوئی اورعصرکی دورکعتیں ادا فرمائیں , آپ کے ہمراہ اہل مکہ بھی تھے, انہوں نے بھی قصراورجمع کرکے نمازپڑھی,  جب آپ   (صلى الله عليه وسلم)نمازسے فارغ ہوئے توسوارہوکرموقف  آئے , اورجب لوگوں کوآپ  (صلى الله عليه وسلم)کے روزے کے بارے میں شک ہوا تومیمونہ رضی اللہ عنہا نے دودھ کاپیالہ بھجوایا اورآپ  (صلى الله عليه وسلم) موقف ہی کے پاس کھڑے ہوئے تھے توآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے لوگوں کے سامنے ہی اس کو نوش فرمایا. اور میدان عرفات ہی میں پہاڑکے دامن میں چٹانوں کے پاس قبلہ رخ سواری ہی پراس طرح کھڑے ہوئے کہ جبل مشاۃ آپ کے سامنے تھا اورسورج غروب ہونے تک دعا وگریہ زاری میں مشغول رہے. اورلوگوں کو حکم دیا کہ وادی عرنہ سے ہٹ جائیں , اورمزید فرمایا کہ :"میں یہاں کھڑا ہوا ہوں اورپورے کا پورا عرفہ کھڑا ہونے کی جگہ ہے." (مسلم)

دعاؤں میں آپ  (صلى الله عليه وسلم)اپنا ہاتہ سینے تک اٹھا ئے ہوئے تھے جس طرح کوئی مسکین کھانا مانگ رہا ہو, اس موقع پرارشاد فرمایا کہ "بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے, اوربہترین (دعا)   جس کو میں اورمجھ سے پہلے انبیاء نے کی ہے وہ:لا اله الا الله وحده لاشريك له, له الملك وله الحمد, وهو على كل شيء قدير" ہے. (ترمذي)

اللہ کے علاو ہ کوئی برحق معبود نہیں جواکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں, ساری تعریف اوربادشاہت کا تنہا مالک ہے, اورہرچیزپرقادرہے.(ترمذی)

جب آفتاب غروب ہوگیا اورزردی بھی ختم ہوگئی اورغروب آفتاب میں کوئی شک وشبہ نہیں رہا تو آپ  (صلى الله عليه وسلم) عرفات سے چل پڑے اورحضرت اسامہ بن زید کو اپنے پیچھے بٹھالیا, اورسکینت وخاموشی سے چلتے رھے ,اور اونٹنی کی لگام اپنی طرف کھینچ لی, یہاں تک کہ اسکا سرکجاوے کے کنارے سے لگ جاتا , اس موقع پرآپ فرمارہے تھے :"اے لوگو! سکون واطمینان سےچلو کیونکہ تیز چلنا نیکی نہیں ہے" (بخاری)

آپ (صلى الله عليه وسلم)"مازمین" کے راستے سے واپس ہوئے اور"ضب" کے راستے سے عرفہ میں داخل ہوئے تھے.

پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے چلنے کا وہ اندازاختیارکیا جسے (سیرعنق) کہتے ہیں –یعنی نہ بہت آہستہ نہ بہت تیزبلکہ درمیا نی چال اختیارکی- جب آپ کو وسیع راستہ  نظرآتا تو ذرا تیزہوجاتے.

آپ(صلى الله عليه وسلم) راستے میں  برابرتلبیہ پڑھتے رہے,اورراستہ میں پیشاب کیوجہ سے ایک جگہ نزول فرمایا اورہلکا وضوء فرمایا, پھرآپ چل پڑے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچ  کرنمازکے لئے وضوء فرمایا, اور اذان واقامت کہنے کا حکم  دیا ,پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے اونٹوں کے بیٹھانے اورلوگوں کے اپنے سامان اتارنے  سے پہلے مغرب کی نماز پڑھائی, پھرجب انہوں نے اپنے سامانوں کواتارلیا, تودوبارہ اقامت کہی گئی اورعشاء کی نماز ادا فرمائی ,عشاء کے لئے اذان نہیں کہی گئی, اورمغرب وعشاء کے درمیان آپ نے کوئی نماز نہیں پڑھی.

پھرآپ سوگئے یہاں تک کہ صبح ہوگئ, اس رات آپ نے کوئی عبادت نہ کی.

اس رات چاند ڈوبنے کے بعد آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے  اپنےکمزوراہل کو فجرسے پہلے منى' روانگی کا حکم دے دیا, اوران کو تاکید فرمائی کہ وہ آفتاب نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں.

طلوع فجرکے بعد اول وقت میں نماز فجرادا فرمائی, اوراس کے لئے اذان واقامت کہی گئی, پھرسوارہوکرمشعرحرام کے پاس آئے اورلوگوں کوباخبرکیا کہ مزدلفہ سارا کا سارا موقف ہے. پھرقبلہ رخ ہوکردعا وتضرع , تکبیروتہلیل اورذکرالہی میں مشغول ہوگئے حتى کہ کافی روشنی ہوگئی, پھرآپ مزدلفہ سے حضرت فضل بن عباس کوپیچھے سواری پربیٹھا کرچلے, اوریہیں راستے میں حضرت ابن عباس کو حکم دیا کہ کہ رمی الجمارکے لئے سات کنکریاں چن لیں, چنانچہ آپ انہیں اپنے ہاتہ میں اچھالنے لگے اورفرمانے لگے:"ایسی ہی کنکریوں سے رمی کرو, اوردین میں غلوکرنے سے بچو,کیونکہ پچھلی قومیں دین میں غلوکرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں000(نسائی ,ابن ماجہ)

جب آپ وادی محسّرمیں پہنچے تواونٹنی کی رفتارتیزکردی,او درمیانی راستہ اختیار کیا جو جمرہ عقبہ یا کبری' پر نکلتاہے یہاں تک کھ آپ منى' پہنچے, آپ  (صلى الله عليه وسلم) رمی شروع کرنے تک تلبیہ کہتے رہے, جمرہ کے سامنے وادی میں اس طرح کھڑے ہوئے کہ خانہ کعبہ آپ کے بائیں اورمنى آپ کے دائیں ہاتہ تھا, پھرطلوع آفتاب کے بعد سواری پرسے یکے بعد دیگرے سات کنکریاں پھینکیں, ہرکنکری پرتکبیرکہتے تھے, (اورلبیک کہنا بند کردیا تھا).

پھرآپ منى' واپس آئے اورایک فصیح وبلیغ خطبہ دیا جس میں لوگوں کوقربانی کے دن کی حرمت وعظمت اورفضیلت نیزمکہ کی حرمت بیان فرمائی. اورحکم فرمایا کہ کتاب اللہ کے مطابق حکمرانی کرنے والوں کی اطاعت کریں, اورحج کے مناسک کی تعلیم دی, پھرآپ منى' میں قربانی کے مقام پرتشریف لے گئے, چنانچہ وہاں پرتریسٹہ اونٹ اپنے ہاتہ سے ذبح کئے ,اونٹ کو کھڑارکھکراوراسکی اگلی بائیں ٹانگ باندہ کرآپ نے نحرکیا, پھرآپ رک گئے اورسومیں سے باقی اونٹ کو حضرت على رضی اللہ عنہ کو ذبح کرنے کا حکم دیا, اورانکو یہ حکم دیا کہ ان اونٹوں کو مسکینوں میں صدقہ کردینا اورقصاب کو اجرت میں قربانی کی کوئی چیزنہ دینا.

اور فرمایا کہ ساراکا سارا منی' قربانی کی جگہ ہے , اورمکہ کی گلیاں راستہ اورقربان گاہ ہیں.

جب آپ  (صلى الله عليه وسلم)قربانی سے فارغ ہوئے تو حجام کو بلوایا اورسرکا حلق کرایا, تواس نے دائیں جانب سے شروع کیا, پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے حلاق کو بائیں طرف حلق کرنے کا حکم دیا, پھرآپ نے بال ابوطلحہ کو دیدیا, اورفرمایا:"کہ اس بال کو لوگوں کے درمیان تقسیم کردو."( متفق علیہ)

اورحلق کرانے والوں کو تین مرتبہ مغفرت کی دعا فرمائی اورچھوٹا کرانے والوں کے لیے ایک مرتبہ دعائےمغفرت فرمائی,اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے حلال ہونے سے پہلے آپ  (صلى الله عليه وسلم) کو خوشبولگائی.

پھرنبی کریم (صلى الله عليه وسلم) ظہرسے قبل سوارہوکرمکہ مکرمہ کی طرف تشریف لے گئے اورطواف افاضہ کیا, آپ نے اس کے علاوہ دوسرا طواف نہیں کیا اورنہ ہی سعی فرمائی, اورنہ اس طواف میں رمل کیا, اورنہ ہی طواف وداع میں رمل کیا, آپ نے رمل صرف طواف قدوم میں ہی کیا تھا.

پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم)طواف  مکمل ہونےکے بعد زمزم کے پاس تشریف لائے اوروہاں لوگ پانی پی رہے تھے توصحابہ کرام نے آپ کو ڈول میں پانی دیا اورآپ نے کھڑے ہوکراسے نوش فرمایا.

پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے منى' واپس آکروہیں رات گزاری, اسمیں اختلاف ہے کہ آپ نے ظہرکی نماز منى' میں اداکی یا مکہ مکرمہ میں ,  ابن عمررضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے منى' میں نماز ظہرپڑھی. اورجابروعائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان کے مطابق مکہ میں.

جب صبح ہوئی توزوال آفتا ب کا انتظارکیا, جب سورج ڈھل گیا تو اپنے قیام گاہ سے جمرات کی طرف پیدل تشریف لے گئے,اورجمرہ اولى' سے شروع کیا, جومسجد خیف سے قریب ہے, اوراللہ اکبرکہ کرسات کنکریاں ماریں.

پھرجمرہ سے تھوڑا آگے بڑھے اوردونوں ہاتھوں کو اٹھاکرقبلہ رخ ہوکرلمبی دعا فرمائی اتنی طویل کہ جتنی سورہ بقرہ پڑھی جاسکتی ہے.

پھرجمرہ وسطى' کے پاس آئے اور"اللہ اکبر"کہہ کرسات کنکریا ں ماریں, پھر وادی سے متصل بائیں جانب آئے اورقبلہ رخ ہوکردونوں ہاتھوں کو اٹھاکرپہلے سے کچھ کم لمبی دعا فرمائی .

پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم) جمرہ عقبہ کے پاس آئے , اوروادی   میںداخل ہوئے, اورجمرہ کو سامنےرکھکر,   بیت اللہ کو بائیں اور منی' کو دائیں کرکے" اللہ اکبر"کہ کراس جمرہ کو سات کنکریا ں ماری ,اورکنکریاں پھینکنے کے بعد وہاں کوئی دعا نہ مانگی بلکہ فورأ واپس آگئے.

اورگمان غالب یہ ہے کہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) نمازظہرسے قبل ہی رمی کرتے تھے,پھرواپس جاکرنمازپڑھتے تھے. اورعباس رضی اللہ عنہ کو منی' کی راتوں کو سقایہ کی وجہ سے مکہ میں گزارنے کی اجازت دیدی تھی.

آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے دودن میں کنکری مارکرجانے میں جلدی نہیں کی بلکہ ایام تشریق کے تینوں دنوں کومکمل کیا اورکنکری ماری, اورظہرکے بعد محصّب کی طرف روانہ ہوئے , پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے وہیں پر ظہر,عصر,مغرب اورعشاء کی نمازیں ادا فرمائی,اورسوگئے, پھراٹہ کرمکہ تشریف لے گئے,اورسحری کے وقت طواف وداع فرمایا.

آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے اس طواف میں رمل نہیں فرمایا, اورصفیہ رضی اللہ عنہا کو جب حیض آگیا تو انہین طواف وداع نہ کرنے کی رخصت دیدی. اورعائشہ رضی اللہ عنہا کوان کے دل کی تسکین کے لئے انکے بھائی کے ساتہ مقام تنعیم سے جاکرعمرہ کرنے کی اجازت مرحمت فرمادی, جب وہ رات کو عمرہ کرکے فارغ ہوگئیں توآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے صحابہ کو کوچ کرنے کا حکم دیدیا, اورلوگ روانہ ہوگئے.

_____________________________

(1) زادالمعاد(2/86)

(2) زادالمعاد(2/96)

منتخب کردہ تصویر

دورة التعريف بنبي الرحمة بجدة 12