Get Adobe Flash player

أ- کھانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ:

1- آپ   (صلى الله عليه وسلم)کے پاس جوکچھ آتا اسے واپس نہ کرتے اورجونہ ہوتا اسکے لئے تکلف نہ کرتے تھے, آپ   (صلى الله عليه وسلم)کے پاس جوبھی پاک چیزپیش کی جاتی اسے تناول فرماتے مگریہ کی طبیعت اسے نہ چاہے. توآپ بغیرحرام قراردیے اسے چھوڑدیتے تھے ,اورآپ اپنے نفس کو اس سے نفرت پرنہیں اکساتے, آپ   (صلى الله عليه وسلم)نے کبھی کھانے میں عیب نہ لگایا, اگردل چاہا توکھالیا , ورنہ چھوڑدیا, جیساکہ سانڈ کے کھانے کوعادی نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑدیا.

2- جوکچہ میسّرہوتا آپ  (صلى الله عليه وسلم) اسے کھالیتے ,اگرنہ ہوتا توصبرسے کام لیتے تھے.یہاں تک کہ ایسے بھی دن آتےکہ بھوک کی وجہ سے شکم مبارک پرپتھربھی باندھنا پڑتا تھا,اورتين تين چاند  دکھائی پڑتے(یعنى تین ماہ گزرجاتے) مگرآپ کےگھرمیں چولھا نہ جلتا تھا.

3- خوردونوش میں آپ   (صلى الله عليه وسلم)کی عادت طیبہ یہ نہ تھی کہ ایک ہی قسم کی غذاؤں پرقائم رہتے ان کے علاوہ دوسری نہ استعمال کرتے .

4- آپ   (صلى الله عليه وسلم)نے حلوہ اورشہد کھایا, ان دونوں کوبہت پسند کرتے تھے, اوراونٹ کا گوشت کھایا, اوربھیڑبکری, مرغی , حبّاری(سرخاب) کے گوشت ,نیل گائے کے گوشت ,خرگوش , سمندری کھانے (سى فوڈ),  بھنے گوشت, اورتازہ وخشک کھجوراورثرید بھی کھایا جو روٹی کے ٹکروں اورگوشت سے ملاکربناہوتا تھا. اورروٹی کو تیل اورککڑی کو رطب کھجورکے ساتہ ملاکر کھایا, اورپکا ہوا کدو بھی کھایا اوراسے بہت پسند کرتے تھے, اورقدید(دھوپ ميں سکھایا ہوا گوشت) بھی کھایا, اورمکھن کے ساتہ کھجورکو ملاکرکھایا.

5- آپ   (صلى الله عليه وسلم)گوشت  پسندفرماتے تھے آپ  (صلى الله عليه وسلم) کو دست کا حصہ اوراگلے حصہ کا گوشت زیادہ مرغوب تھا.

6- آپ   (صلى الله عليه وسلم)علاقے کے تازہ پھل بھی استعمال فرماتےتھےاوران سے پرہیزنہ کرتے -

7- آپ (صلى الله عليه وسلم) کا اکثرکھانا زمین پر دسترخوان میں رکھا جاتا تھا.

8- آپ (صلى الله عليه وسلم) دائیں ہاتہ سے کھانے کا حکم دیتے اوربائیں سے منع فرماتے تھےاورکہتے :"کہ شیطان بائیں سے کھاتا اورپیتا ہے"(مسلم)

9- آپ (صلى الله عليه وسلم) تین انگلیوں سے کھاتے تھے,اورکھانے کے بعد انگلیوں کوچاٹ لیتے تھے.

10- آپ   (صلى الله عليه وسلم)ٹیک لگاکرنہ کھاتےتھے, اورٹیک لگانے کی تین صورتیں ہیں: 1- پہلوکے بل ٹیک لگانا, 2- چارزانوں(ٹیک لگاکر) بیٹھنا, 3- ایک ہاتہ پرٹیک لگانا اوردوسرے ہاتہ سے کھانا, اوریہ تینوں صورتیں مذموم ہیں, آپ   (صلى الله عليه وسلم) اقعاء کی حالت میں بیٹہ کرکھاتے تھے.اقعاء کہتے ہیں کہ چٹھوں کے بل بیٹھکرپنڈلیوں کو کھڑارکھاجائے ,اورآپ   (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا : " میں اسی طرح بیٹھتا ہوں جس طرح غلام بیٹھتا ہے اوراسی طرح کھاتا ہوں جسطرح  بندہ کھاتا ہے".

11- آپ   (صلى الله عليه وسلم)کھاناشرو ع کرنے سے پہلے ”بسم اللہ" کہتے اوربسم اللہ کہ کرکھانے کا حکم دیتے تھے.اورفرماتے:"ج تم میں سے کوئی کھائے تواللہ کا نام لےکرکھائے ,اگربھول جائے تو کہے:"بسم الله في اوله وآخره" (ترمذي) الله کے نام سے ابتدا وانتہا کرتا ہوں" (ترمذی)

12- آپ   (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا :"  جس کھانے میں اللہ کا نام نہیں لیا جاتا شیطان اسمیں  شریک ہوجاتا ہے "(مسلم)

13- آپ   (صلى الله عليه وسلم)کھانے کےدوران بات بھی کر لیتے اورمہمانوں کوباربار مزید کھانے کو فرماتے جیسا کہ سخی مہمان نواز کیا کرتے کرتے ہیں.

14- جب آپ   (صلى الله عليه وسلم)کے سامنے سے کھانا (دسترخوان)اٹھا لیا جاتا توکہتے :"الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه غيرَ مكفيّ ولا مودّع ولا مستغنىً عنه ربّنا"(بخارى) ساری تعریف اللہ کے لئے ہے, بہت زیادہ اورپاکیزہ تعریف جس میں برکت کی گئی ہے,جسے نہ کافی سمجھا گیا ہے(کہ مزید کی ضرورت نہ ہو)نہ چھوڑا گیا ہے اورنہ اس سے بے پروائی  کی گئی ہے,اے ہمارے رب " (بخاری)

15- جپ آپ کسی کے یہاں کھانا کھاتے توانکے لئے دعائیں کیے بغیرنہ تشریف لے جاتے ,اورفرماتے :"روزہ داروں نے تمہارے پاس افطارکیا, اورنیک لوگوں نے تمہارا کھانا  کھایا, اورتم پرفرشتوں نے رحمت کی دعا کی" (داود)

16- جوشخص مسکینوں کی مہمان نوازی یا ضیافت کرتا توآپ  (صلى الله عليه وسلم) اس کے لئے دعا فرماتے اوران کی تعریف کرتے تھے.

17- آپ   (صلى الله عليه وسلم)چھوٹے بڑے ,غلام وآزاد, دیہاتی یا مہاجرکسی کے ساتہ بیٹھ کرکھانے سےاجتناب نہ کرتے تھے.

18- جب آپ   (صلى الله عليه وسلم)کے پاس روزے کی حالت میں کھانا پیش کیا جاتا تو فرماتے " ميں روزہ سے ہوں" (متفق علیہ)اورارشاد فرمایا کہ اگرروزہ دارکو کھانا پیش کیا جائے توکھانا پیش کرنے والے کو دعائیں دیں ,اور اگر روزے سے نہ ہو تواسے تناول فرمائے.

19- جب آپ   (صلى الله عليه وسلم)کو کھانے پرمدعوکیا جاتا اورکوئی دوسرا بھی آپکے ہمراہ ہوجاتا تو آپ میزبان کو مطلع کرتے اورفرماتے کہ  :" يہ ہمارے ساتہ ہے,اگرتم چاہوتواسے اجازت دو ورنہ واپس لوٹ جائے.(بخاری)

20- کچہ لوگوں نے آپ  (صلى الله عليه وسلم) سے عدم آسود گی کی شکایت کی توآپنے انکو بتایا کہ وہ ساتہ مل کرکھائیں اورالگ الگ نہ کھائیں اوربسم اللہ پڑھ لیا کریں اسمیں برکت ہوگی.

21- اورآپ  (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا :" آدمی نے پیٹ سے بدتر کوئی اوربرتن نہیں بھرا, ابن آدم کے لئے اتنا ہی کھانا کافی ہے جس سے پیٹھ صحیح رہ سکے,پس اگروہ ضرورکھانا ہی چاھتاہے تو ایک حصہ کھانا کے لئے ,ایک حصہ پانی کے لئے اورایک حصہ سانس لینے کیلئے رکھے"(ترمذی ,ابن ماجہ)

22- آپ   (صلى الله عليه وسلم)ایک مرتبہ رات کےوقت گھرمیں داخل ہوئے کھانا طلب کیا کچھ نہیں پائے تو فر مایا:"اے اللہ جومجھے کھلائے اسے کھلا, اورجومجھے سیراب کرے اسے تو سیراب کر"(مسلم)

ب- پینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ(2)

1- پینے میں آپ   (صلى الله عليه وسلم)کا طریقہ بہت کامل تھا جس سے صحت کی حفاظت ہوتی تھی.آپ کے نزدیک سب سے بہترمشروب ٹھنڈا پانی تھا,کبھی آپ خالص دودھ پیتے ,اورکبھی پانی کے ساتہ ملاکرپیتے تھے.اورفرماتے :"اے میرے رب! تواس میں برکت اورزیادتی عطا فرما,اسلئے کہ کھانا اورپانی سے دودھ کے علاوہ کوئی چیزبے نیازیا کفایت نہیں کرسکتی" (ترمذی)

2- آپ   (صلى الله عليه وسلم)کھاتے وقت  پانی نہ پیتے تھے,آپ   (صلى الله عليه وسلم)کے لئے شروع شب(رات) ہی میں نبیذ بنائی(بھگوئی) جاتی اورجب اگلے دن صبح ہوتی تواسکونوش فرماتے تھے, اورپھردوسرے اورتیسرے دن تک پیتے تھے پھراگراسمیں سے کوئی چیزبچ جاتی تو اسے اپنے خادموں کو دیدیتے تھے یا پھینکنے کا حکم دیدیتے تھے.

( نبیذ کہتے ہیں وہ پانی جسے شیریں کرنے کےٍ لیے اس میں کھجورکو ڈال دیا جائے. آپ نبیذ کو تین دن گزرنے کے بعد نشہ پیداہونے کے ڈرسے نہ پیتے تھے).

3- آپ   (صلى الله عليه وسلم)کی عادت طیبہ بیٹھ کرپینے کی تھی, اورکھڑے ہوکر پینے سے منع فرماتے تھے, صرف ایک مرتبہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے کھڑے ہوکرپیا,اسکی توجیہ یہ کی گئی ہے کہ ایسا آپ نےعذرکیوجہ سے کیا تھا,اوردوسراقول یہ ہےکہ ممانعت کی نسخ کے لئے ایسا کیا, تیسراقول: بطورجوازكيلئے ایسا کیا تھا .(یعنی ضرورت کے وقت کھڑاہوکرپینا جائز ہے مترجم) 

4- آپ   (صلى الله عليه وسلم)پانی پینے کے دوران تین مرتبہ سانس لیتے تھے,اورفرماتے تھے کہ : "اس سے سیرابی ہوتی اورپانی خوشگوارہوجاتا(اھی طرح ہضم کرتا ) ہے اورشفا حاصل ہوتی ہے"(مسلم)

اور(پینےکےدوران سانس لینے کا)مطلب یہ ہے کہ منہ کو برتن سے دور رکھ کر باہر سانس لینا  جیساکہ آپ کا فرمان ہے :"جب تم میں سے کوئی پانی پئےتو برتن میں سانس نہ لے, بلکہ برتن کو منہ سے دوررکھے"(ترمذی, ابن ماجہ)

اور پیالہ کے سوراخ اوربرتن یا مشکیزہ میں منہ لگا کر پینے سے بھی آپ   (صلى الله عليه وسلم)نےروکا ہے. ثلمہ : شگاف وسوراخ کوکہتے ہیں.

5- آپ   (صلى الله عليه وسلم)"بسم اللہ" کہ کرپانی پیتے تھے اورجب فارغ ہوتے تو"الحمد للہ"کہتے تھے,اورفرماتے :" بے شک اللہ تعالى' بندے سے جب وہ کھانا کھاکے اللہ کی تعریف بیان کرتا ہے تو بہت خوش ہوتا ہے, اورجب پانی پی کراسکی حمد بیان کرتا ہے توخوش ہوتا ہے"(مسلم)

6- آپ   (صلى الله عليه وسلم)کے لیے پانی کوشیریں کیا جاتا تھا, اس سے مراد وہ پانی ہےجوپاک ہواورکھارا نہ ہو, اورآپ اس میں سے باسی ٹھنڈاپانی پسند فرماتے تھے.

7- آپ   (صلى الله عليه وسلم)جب پی لیتے تو اپنے سے دائیں والوں کی طرف بڑھادیتے گرچہ بائیں والے حضرات معززاوربڑے ہوتے .

8- آپ   (صلى الله عليه وسلم)برتن کو ڈھانکنے اوراسکے منہ کوباندھنے  کا حکم فرماتے گرچہ لکڑی کے تختہ کے  ذریعہ ہی کیوں نہ ہو, اوریہ کہ ڈھانکتےوقت "بسم اللہ" پڑھکرڈھانکا جائے.

اور"ایکاء" کے معنی ہوتے ہیں برتن کے منہ کو مضبوطی سے باندھ دینا.

___________________________________________

(1) (زادالمعاد 1/142,2/263)

(2)  زادالمعاد(2/366,)(4/209)


منتخب کردہ تصویر

دوره للتعريف بنبى الرحمه فى النمسا