Get Adobe Flash player

آپ (صلى الله عليه وسلم)  کا نسب: آپ کی کنیت ابوالقاسم اورنام محمدہے آپکا نسب نامہ اس طرح ہے:محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مُّرّۃ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فھربن مالک بن النضربن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن إلیاس بن مضربن نزار بن معد بن عدنان ہے.

 اس نسب پرسب کا اتفاق ہے.

اوراسی طرح اس پربھی اتفاق ہے کہ عدنان,  اسماعیل علیہ السلام کے اولاد میں سے تھے.

آپ(صلى الله عليه وسلم)  کا نام:

جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی  (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا:"بے شک میرے کچھ نام ہیں :"میں محمد اوراحمد ہوں, اورمیں ماحی ہوں میرے ذریعہ اللہ کفرکومٹا تا ہے ,اورمیں حاشرہوں میرے قدم پرلوگ جمع واکٹھا ہوں گے. اورمیں عاقب ہوں جس کے بعد کوئی آنے والا نہیں" (متفق علیہ)

اورابوموسى اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول  (صلى الله عليه وسلم) خو د اپنے ناموں کے بارے میں بتاتے تھے,آپ(صلى الله عليه وسلم)  نے فرمایاکہ :" میں محمد, احمد اورمقفی (جن کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں) ہوں اورحاشراورنبی توبہ اورنبی رحمت ہوں." (مسلم) 

آپ (صلى الله عليه وسلم) کے خاندان کی پاکی کے بیان میں:

یہ کسی دلیل کی محتا ج نہیں کیونکہ آپ (صلى الله عليه وسلم)  کو اللہ نے بنی ہاشم کے خاندان سے اورقریش کی نسل سے چنا ہے جوعرب میں  سب سے زیادہ شرف والا نسب سمجھا جاتا ہے اورآپ (صلى الله عليه وسلم)  مکہ ٍسے ہیں جواللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب شہرہے. اللہ تعالى کا ارشاد ہے:

اللہ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ  [  ( سورة الأنعام:124)

’’اللہ کو خوب معلوم ہے کہ وہ اپنی رسالت کو کہاں ودیعت کرے"

اورابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بھی- اسلام لانے سے پہلے- آپ  (صلى الله عليه وسلم) کی نسب کی شرافت وبلندی کا اعتراف کیا تھا جس وقت بادشاہ روم ہرقل نےان سے آپ (صلى الله عليه وسلم)  کے حسب ونسب کے باریے میں پوچھا تھا توانھوں نے کہا تھاکہ:"وہ ہم میں اعلی' وشریف نسب والا ہے, تو ہرقل نے کہا: "اسی طرح انبیاء اپنی اپنی قوم کے نسب میں بھیجے جاتے ہیں." (متفق علیہ)

اورآپ (صلى الله عليه وسلم)  نے فرمایا  :"اللہ عزوجل نے   ابراہیم   علیہم السلام کی اولاد میں سےاسماعیل کو چنا  , اوراسماعیل میں سے بنوکنانہ کو, اوربنوکنانہ میں سے قریش کو , اورقریش میں سے بنوہاشم کو, اورمجھے  بنوہاشم سے منتخب فرمایا " (رواہ مسلم ) 

آپ  (صلى الله عليه وسلم) کے نسب کی پاکی ہی میں سے  ہے کہ اللہ تعالی' نے آ پ(صلى الله عليه وسلم)   کے والدین کو زنا جیسی گندگی سے محفوظ رکھا,آپ (صلى الله عليه وسلم)   صحیح نکاح سے پیداہوئے نہ کہ کسی زانیہ کے شکم سے.

جیسا کہ آپ (صلى الله عليه وسلم)   کا ارشادہے:"میں نکاح کے ذریعہ پیدا ہوا ہوں نہ کہ زنا سے , آدم علیہ السلام سے لے کر میرے باپ وماں کے مجھے جننے تک  مجھے جاہلیت کی زنا سے کچہ بھی نہیں پہنچا." (طبرانی نے معجم الأوسط میں روایت کیا اورعلامہ البانی نے اسے حسن قراردیا ہے)

اورآپ  (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایاکہ :" میں آدم علیہ السلام   سے ہی بغیرزنا کے نکاح سے پیدا ہوا ہوں  ." (ابن سعد نے روایت کیا اورالبانی نے اسے حسن قراردیا)

اورابن سعد اورابن عساکرنے کلبی رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا:"میں نے نبی (صلى الله عليه وسلم)  کے پانچ سوماؤوں کا شمارکیا ہے, ان میں سے کسی کے اندر زنا,اورجاہلیت کی کوئی چیزنہیں پائی."

کلبی رحمہ اللہ کا قول   "پانچ سو مائیں سے"   باپ و ماں کی جہت سے دادی وپردادی وغیرہ مراد ہیں.

منتخب کردہ تصویر

The Ka’bah: The first house of worship –III