Get Adobe Flash player

اللہ تعالی' کا ارشاد ہے:

) وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ[ (سوره آل عمران:81-82)    

"اورجب اللہ نے نبیوں سے میثاق لیا کہ میں تمہیں جوکچھ کتاب وحکمت دوں, پھرتمہارے پاس کوئی رسول آئے جو تمہاری چیزوں کی تصدیق کرے, تو اس پرضرور ایمان لے آؤگے,اوراس کی ضرور مدد کروگے, اللہ نے کہا کہ کیا تم لوگوں نے اقرارکرلیا اوراس پرمیراعہد قبول کرلیا  ,انہوں نے کہا کہ ہم نے اقرارکرلیا, اللہ نے کہا,پس تم لوگ گواہ رہو, اورمیں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں, پس جس نے اسکے بعد اعراض کیا وہی لوگ فاسق ہیں"

علی بن ابی طالب اورآپ (صلى الله عليه وسلم)  کے چچا کے لڑکے عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ:" اللہ نے جتنے بھی انبیاء مبعوث فرمائے تمام سے یہ عہد لیا کہ اگرمحمد  (صلى الله عليه وسلم) کو اللہ نے مبعوث کیا اوروہ زندہ ہیں توتما م لوگ اس پرایمان لائیں گے اور اس کی مدد کریں گے. اوریہی عہد ان کی امتوں سے بھی لینے کا حکم دیا کہ جب وہ محمد کو بھیجے گا اوروہ اس وقت زندہ ہوں گے تو اس پرضرورایمان لائیں گےاوراس کی مدد کریں گے. 1

اورالله تعالى' ابراھیم علیہ السلام کی حکایت بیا ن کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

) رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنتَ العَزِيزُ الحَكِيمُ[ (سورة البقرة:129)  

’’ اوراے ہمارے رب ,انہی میںسے ایک رسول ان کی ہدایت کے لئے مبعوث فرما ,جوتیری آیتیں انہیں پڑھ کرسنائے, اورانہیں قرآن وسنت کی تعلیم دے,اورانہیں پاک کرے, بے شک تو بڑازبردست اورحکمت والا ہے"

ابن کثیررحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:"اللہ تعالى' ابراہیم علیہ السلام کا اہل مکہ کیلئے دعا کی تکمیل کے بارے میں  خبردے رہا  ہے :"کہ اے  اللہ! ان کے اندر انہی میں سے (یعنی ابراھیم علیہ السلام کی اولاد میں سے) ایک رسول مبعوث فرما, اوریہ دعوت مستجاب نبی (صلى الله عليه وسلم)  کےعرب ان پڑھوں  اورتمام عجم انس وجن کے لئے رسول ہونے میں اللہ کے سابق تقدیرکے موافق ٹہری, جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ  نے عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے آپ  (صلى الله عليه وسلم) فرماتے ہیں:"بے شک میں اللہ كے نزدیک اسی وقت خاتم النبیین تھا جب آدم  علیہ السلام مٹی ہی میں تھے اورمیں اسکی تمہیں تفسیربیان کررہا ہوں    :" کہ میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام  کی دعا , عیسى' علیہ السلام کی بشارت ,اوراپنی ما ں کے خواب کا نتیجہ ہوں, اوراسی طرح نبیوں کی مائیں خواب دیکھتی ہیں" 

اوربرابرلوگوں میں آپکا ذکرباقی ومشہوررہا یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے نسب کے اعتبارسے آخری نبی عیسى علیہ السلام نے آپ (صلى الله عليه وسلم)  کے نام کو بنی اسرائیل کے لوگوں کے سامنے ایک خطبہ کے دوران ظاہرکرتے ہوئے فرمایا:"  میں تمہارے لئے اللہ کا رسول بناکربھیجا گیا ہوں , مجھ سے پہلے جوتورات آچکی ہے, اسکی تصدیق کرتا ہوں, اورایک رسول کی خوشخبری دیتا ہوں جومیرے بعد آئےگا, اسکا نام احمد ہوگا.." (الصف:6)  اسی لئے اس حدیث میں کہاکہ:"میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اورعیسى' علیہ السلام کی بشارت وخوشخبری کا نتیجہ ہوں" 2

جہاں تک آپ  (صلى الله عليه وسلم) کےگزشتہ کتابوں میں فضائل ومناقب کے ذکرکا تعلق ہے تو اس پراللہ کا یہ قول دلالت کناں ہے, اللہ کا فرمان ہے:

) الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَآئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالأَغْلاَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُواْ بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُواْ النُّورَ الَّذِيَ أُنزِلَ مَعَهُ أُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ[ (سورة الأعراف:157)  

’’ان کے لئے جوہمارے رسول نبی امّی کا اتباع کرتے ہیں جن کا ذکروہ اپنے تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ,جولوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہیں اوربرائی سے روکتے ہیں اوران کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتے ہیں اورخبیث اورگندی چیزوں کو حرام کرتے ہیں,اوران بارہائے گراں اوربندشوں کو ان سے ہٹاتے ہیں جن میں وہ پہلے سے جکڑے ہوئے تھے...الخ,, 

اورعطاء بن یسارکہتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن عمرو ابن عاص رضی اللہ عنہ سے ملا اوران سے تورات میں نبی (صلى الله عليه وسلم)  کے اوصاف کے سلسلے میں پوچھا.

 توانہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم! بے شک وہ تورات میں انہی صفتوں سے متصف ہیں جن سے قرآن میں متصف ہیں:’’اے نبی !ہم نے آپ کوگواہ بنا کراورجنت کی خوشخبری دینے والا اورجہنم سے ڈرانے والا بناکربھیجا ہے,,[الأحزاب: 45] اوران پڑھوں کے پناھگاہ ہیں ,آپ میرے بندے اوررسول ہیں, میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے.آپ نہ توسخت رواورنہ ہی ترش رو ہیں,نہ ہی بازاروں میں شورشرابہ کرنے والے ہیں, اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں   بلکہ عفوو مغفرت سے دینے والے ہیں, اوراللہ تعالى آپ کو اس وقت تک موت نہیں دیگا جب تک آپ کے ذریعہ ٹیڑھی ملت کو سید ھا نہ کردیگا یہاں تک کہ لوگ لاالہ الا اللہ(نہیں ہے کوئی معبود برحق مگراللہ) کہنے لگ جائیں ,اوراس کے ذریعہ اندھی آنکھوں, بہرے کانوں ,اورپردہ پڑے ہوئے دل کوکھول دیگا." (بخاری نے روایت کیا)

اوراما م بیہقی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ :

جارود بن عبد اللہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) کے پاس آئے اوراسلام قبول کیا اورکہا :"قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا میں نے آپ کے اوصاف کو انجیل میں پایا, اورآپ کی خوشخبری کنواری کے بیٹے یعنی عیسى' علیہ السلا م نےدی ہے.

اورابوموسى' اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نجاشی نے کہا :" میں گواہی دیتا

ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور عیسى علیہ السلام نے انہیں کی بشارت دی ہے,اوراگرمجھے بادشاہت کے اموردرپیش نہ ہوتے اورلوگوں کی ذمہ داری میرے سرپرنہ ہوتی تو میں آپ کے پاس آکرآپ کی جوتیوں کو اٹھاتا. (ابوداؤد)

_________________________________

1. تفسیرابن کثیر(1/493)

2. تفسیرابن کثیر(1/243)

منتخب کردہ تصویر

برنامج نبي الرحمة للأطفال في قناة المجد 6 من 8