Get Adobe Flash player

دشمنوں کے ساتھ آپ (صلى الله عليه وسلم)  کی رحمت ومہربانی:

یقیناً آ پ (صلى الله عليه وسلم)   ساری بشریت کے لئے رحمت بناکربھیجے گئے تھے ,جیساکہ  خود اللہ رب العالمین نے  صفت رحمت سے آپ کو موسوم کیا ہے:   ) وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ [ ( سورۃ الأنبیاء:107)  

’’اے نبی پاک آپ کو ہم نے سارے جہاں والوں کے لئے رحمت بناکربھیجا ہے"

اورآپ  (صلى الله عليه وسلم) کا ارشاد ہے :"بے شک میں رحمت بنا کربھیجا گیا ہوں" (رواہ مسلم)

آپ (صلى الله عليه وسلم)   کی رحمت عام تھی جومسلمان وکافرسب کوشامل تھی.

چنانچہ یہ طفیل بن عمرودوسی رضی اللہ عنہ ہیں جو اپنے قبیلے دوس کے لوگوں کی ہدایت سے مایوس ہوکرآپ  (صلى الله عليه وسلم) کے پاس آکرکہتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول!"بے شک دوس نے انکار ونافرمانی کی ہے, توآپ ان پربددعا کردیجئیے.

اس پرآپ  (صلى الله عليه وسلم) نے قبلہ رخ ہوکر ہاتھ اٹھادیا, لوگوں کو یقین ہوگیا کہ اب دوس کی ہلاکت  یقینی ہے لیکن قربان جائیے نبی رحمت  (صلى الله عليه وسلم) پر,آپ (صلى الله عليه وسلم)  نے فرمایا:"

اے اللہ! دوس قبیلہ کو ہدایت دے اورانہیں (میرے پاس) لے آ." (متفق علیہ)

آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے ان کی ہدایت ورہنمائی کے لئے دعا کی, نہ کہ عذاب وہلاکت کی. کیونکہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) لوگوں کے لئے صرف بھلائی ہی کے خواہاں, اوران کی نجا ت وکامیابی ہی کے خواہش مند تھے.

آپ  (صلى الله عليه وسلم) اہل طائف کواسلام کی دعوت دینے کے لیے وہاں تشریف لے جاتے ہیں تووہاں کے لوگ آپ کا نہایت ہی تمسخراوراستہزاء وانکارسے استقبال کرتے ہیں ,اورآپ کے پیچھے وہاں کے اوباشوں وبیوقوفوں کولگادیتے ہیں جوسنگباری کرتے ہیں یہاں تک کہ آپ کی ایڑیوں سے خون جاری ہوجاتا ہے.

آپ (صلى الله عليه وسلم)  کے اس حادثہ کو مائی عائشہ رضی اللہ عنہا بیا ن کرتی ہیں کہ: میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول (صلى الله عليه وسلم) ! کیا آپ پر(غزوہ) احد کے دن سے بھی زیادہ سنگین کوئی دن آیاہے؟ توآپ (صلى الله عليه وسلم)  نے فرمایا:"یقیناً تمہاری قوم سے مجھے جن جن مصائب کا سامناہوا ان میں سب سے سنگین مصیبت وہ تھی جس سے میں گھاٹی کے دن دوچارہوا, جب میں نے اپنے آپ کو عبد یَالَیْل بن عبد کُلاَل کے بیٹے پرپیش کیا, مگر اس نے میری دعوت کو ٹھکرادیا , تومیں غمزدہ ہوکرواپس لوٹنے لگا, اورمجھے قرن ثعالب کے پاس ہوش آیا , وہاں میں نے اپنا سراٹھایا تودیکھتا ہوں کہ بادل کا ایک ٹکڑا مجھ پرسایہ فگن ھے, میں نے غورسے دیکھا تواس میں جبریل علیہ السلام تھے. انہوں نے مجھے پکارکر کہا: آپ کی قوم نے آپ سے جو بات کہی ہے اللہ نے اسے سن لیا ہے اورآپ کے پاس پہاڑوں کے فرشتہ کوبھیجا ہے تاکہ آپ اسے جوچاہیں اپنی قوم کے بارے میں حکم دیں, پھرآپ   (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ مجھے پہاڑکے فرشتہ نے پکارا اورکہا اے محمد! بے شک اللہ نے آپ کی قوم کی باتوں اوران کے ردعمل کوسن لیا ہے, اور میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں ,مجھے اللہ نے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ اپنی قوم کے بارے میں جو چاہیں حکم صادرفرمائیں؟اگرآپ چاہیں تو ان دونوں پہاڑیوں کے بیچ ان کو پیس کررکھ دوں؟ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم (صلى الله عليه وسلم)  نے فرمایا":(نهيں) بلکہ مجھے اللہ سے امید ہے کہ ان کی نسل سے ایسے لوگوں کو نکالے گا جوصرف اللہ واحد کی پوجا کریں گے اوراس کے ساتہ کسی کو شریک نہ ٹہرائیں گے."(متفق علیہ)

یہ نبوی رحمت وشفقت تھی جس نے آپ کو اپنے بہتے زخم ,شکستہ وغمزدہ دل کو بھلادیا,اور آپ کو صرف اپنی قوم کوبھلائی پہنچانا اوران کو کفرکی تاریکیوں سے نکال کر اسلام کی روشنی اورصراط مستقیم پرلا کرگامزن کرنا ہی یاد رہا. 

ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ جب آپ (صلى الله عليه وسلم)  مکہ میں  دس ہزارجنگجؤوں کے ساتھ ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہوتے ہیں ,اوراللہ تعالى آپ کو ان سبھی کے گردنوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیاروقوت دیتا ہے جنہوں نے آپ کو ستایا اور دھتکارا تھا, آپ کے قتل کی ناپاک سازش رچی تھی, آپ کو آپ کے شہرسے نکال دیا تھا,آپ کے صحابہ کوقتل کیا تھا اوردین کے اختیارکرنے پرانہیںمختلف فتنوں (آزمائشوں) سے دوچارکیا تھا. 

انہیں میں سے ایک صحابی اس فتح عظیم کے حصول کے موقع پرکہتے ہیں کہ :"آج ماردھاڑ اور خونریزی کا دن ہے" توپیغمبر(صلى الله عليه وسلم)  یہ سن کرفرماتے ہیں :

"(نهيں) بلکہ آج رحمت ومہربانی کا دن ہے."

پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم) ان شکستہ خوردوں کے بیچ آتے ہیں اس حال میں کہ وہ ٹکٹکی لگائے ہوئے تھے,ان کے دل خوفزدہ تھے اوران کے گلے سوکھے  ہوئے تھے,وہ اس بات کے منتظرتھے کہ ان کےساتہ یہ فاتح وغالب قائد کیا کرنے والا ہے, جب کہ واقعہ یہ ہے کہ یہی لوگ غداری وخیانت کے خوگر اور بدلے کے عادی تھےاورمسلمان مقتولین کے ساتہ احد وغیرہ کے معرکوں میں مثلہ گری کا شرمناک عمل انجام دے چکے تھے.

آپ  (صلى الله عليه وسلم) ان سے فرماتے ہیں :" قریش کے لوگو! تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارے ساتھ کیسا سلوک کرنے والا ہوں؟ انہوں نے کہا: "خير(بهلائي) كا ! آپ نیک(کرم فرما) بھائی ہیں اورنیک ومہربان (کرم نواز) بھائی کے لڑکے ہیں.

آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے ان سے فرمایا :"جاؤ تم سب آزادہو" اس پروہ وہاں سے چل پڑے ایسا محسوس ہورھا تھا کہ قبرسے نکل کھڑے ہوں.

تویہ عفوعام اس رحمت ہی کا نتیجہ تھی جو آپ(صلى الله عليه وسلم)  کے نہاں خانہ دل میں راسخ تھی, جواتنی عظیم تھی کہ آپ(صلى الله عليه وسلم)  کواورآپ(صلى الله عليه وسلم)  کے ساتھیوں کوسب سے زیادہ  ایذا پہنچانےوالے دشمنوں کو بھی شامل ہوگئی. اگریہ رحمت نہ ہوتی تواس عفوکا ظہورنہ ہوتا, اورسچ کہا ہے آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے جس وقت فرمایاکہ: "بے شک میں سراپا رحمت ہوں جواللہ کی طرف سے لوگوں کے لیے ہدیھ ہے." (رواہ الحاکم ) 

منتخب کردہ تصویر

افتتاح المعرض الدائم في لندن