Get Adobe Flash player

جانوروں اورجمادات کے ساتھ آپ (صلى الله عليه وسلم)  کی رحمت:

جیسا کہ ہم نے اس سےپہلے ذکرکیا ہے کہ رحمت نبوی (صلى الله عليه وسلم) اتنی وسیع تھی کہ کافروں کو بھی شامل تھی چہ جائیکہ موحد مسلمان کو. اوریہاں ہم اس بات کا اضافہ کررہے ہیں کہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) کی رحمت وشفقت جنس بشری سے تجاوز کرکے جمادات وجانوروں تک پہنچی ہوئی تھی, جیسا کہ آپ (صلى الله عليه وسلم)  کا ارشاد ہےکہ:"ایک آدمی کسی راستے سے گزررہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگ گئی, اس نےایک کنواں پایا  اس میں داخل ہوا اورسیراب ہوا, پھراس میں سےنکلا ہی تھا کہ ایک کتے کو ہانپتے ہوئے پایا جوشدت پیاس کی وجہ سے مٹی کوچاٹ رہا تھا, توآدمی نے کہا یقیناُ اس کوبھی میری ہی طرح پیاس لگی ہوئی ہے, پھروہ کنویں میں داخل ہوا اورموزے کوپانی سے بھرا,اورمنہ سے اسے پکڑ کرچڑھا.اورکتے کوسیراب کیا تواللہ نے اس کا اچھا بدلہ دیا اوراس کو بخش دیا "توصحابہ کرام نے کہا کہ اے اللہ کے رسول!کیا ہمارے لیےان چوپایوں کے ساتہ ہمدردی میں بھی ثواب ہے؟

توآپ  (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا :

"ہرتروتازہ(زندہ) کلیجے والےمیں ثواب ہے." (متفق علیہ)

اس عام قاعدہ "ہرتروتازہ (زندہ) کلیجے والے میں ثواب ہے" کے ذریعہ آپ (صلى الله عليه وسلم) ان تمام تنظیموں اورجماعتوں پر سبقت رکھتے ہیں جو حقوق حیوان کی دفاع اوران کے ساتہ مہربانی کا اہتمام کرتی ہیں. آپ  (صلى الله عليه وسلم) ان پرسینکڑوں سال سبقت رکھتے ہیں جس وقت آپ (صلى الله عليه وسلم)  نے فرمایا تھا :"ایک عورت کو بلی کے سلسلہ میں عذاب دیا گیا, اس نے اس کوقید کردیا یہاں تک کہ اس کی موت ہوگئی, تووہ عورت اس کی وجہ سے جہنم میں ڈال دی گئی, جب اس نے اس کو قید کردیا تو نہ ہی اسے کچہ کھلایا وپلایا, نہ ہی  اسے چھوڑی تاکہ زمین کے کیڑے مکوڑوں کو کھا کرپیٹ بھرسکے." (متفق علیہ) 

نبی  (صلى الله عليه وسلم) اس سے اپنے صحابہ کرام کو حیوانوں کے ساتھ رفق ومہربانی اوراحسان کی تعلیم دینا چاہتے ہیں اوریہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ایسےجانورکا قتل کرنا یا اس کے قتل کا سبب بننا جس  کے قتل کی شرعاً اجازت نہیں ہے ممکن ہے کہ جہنم میں داخلے کا سبب بن جائے (اللہ کی پناہ!) جبکہ واقعہ یہ ہے کہ خود ساختہ قوانین جن کے ذریعہ موجودہ دورمیں لوگ حکم وفیصلہ کرتے ہیں اس امر سےنابلد ہیں. 

نیزنبی  (صلى الله عليه وسلم) نے بےمقصد جانوروں کے قتل کرنے سے بھی منع فرمایا ہے, آپ  (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے:"جوبھی شخص کسی گوریاّ یا اس سے بڑا پرندہ کوناحق مارتا ہے تو اللہ تعالى' اس سے قیامت کے دن اس کے بارے میں سوال کریگا",کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! اس کا کیا حق ہے؟ آپ (صلى الله عليه وسلم)  نے فرمایا :" اس کا حق یہ ہے کہ اسے ذبح کرکے اس کو کھالے ,اس کے سرکو کاٹ کراسے پھینک نہ دے." (نسائی)

آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے تو جانورکوذبح کرتے وقت بھی احسان وبھلائی کا حکم دیا ہے, آ پ  (صلى الله عليه وسلم) کا ارشاد ہے:"بے شک اللہ رب العزت نے ہرچیز کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا ہے, لہذا جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو, اورجب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو, اوراپنی چھری کو تیز کرلو تاکہ ذبیحہ کو آرام پہنچا سکو." (رواہ مسلم) 

ایک عالم نے ذکرکیا کہ جب بعض اہل مغرب نے ذبح سے متعلق اسلامی آداب کو جانا تو حلقہ بگوشۂ اسلام ہوگئے. 

اوریہ چیزدین اسلام کے ہرپہلوسے کامل ہونے پر دلالت کرتی ہے, وللہ الحمد والمنۃ.

آپ  (صلى الله عليه وسلم) کایہ بھی  فرمان ہے کہ :"کسی جان والی چیز کو نشانہ نہ بناؤ." (متفق علیہ)

یعنی زندہ جانورکواپنی تیروں کا نشانہ نہ بناؤ(اس کوہدف بناکرتیراندازی کی مشق نہ کرو), اس لیے کہ یہ اس رحمت کے منافی ہے جس سے مومن کو متصف ہونا چاہیے.

یہی نہیں بلکہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) جانوروں سے بھی ظلم وقہرکو مٹاتےاورختم کرتے تھے, اوراس کا خاص اہتمام کرتے تھے. چنانچہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) ایک انصاری شخص کے باغ میں داخل ہوتے ہیں تووہاں ایک اونٹ کوپاتےہیں, جونبی (صلى الله عليه وسلم)  کو دیکھ کر آوازنکا لنے(بلبلانے)  لگتا ہے اوراس کے دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں, آپ  (صلى الله عليه وسلم) اس کے پاس آکراس کے سرپرہاتھ پھیرتے ہیں, تووہ خاموش ہوجاتا ہے , پھرآپ (صلى الله عليه وسلم)  فرماتے ہیں:"اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ توانصارمیں سے ایک نوجوان آیا اوراس نے کہاکہ :  اے اللہ کے رسول! اس کا مالک میں ہوں, توآپ (صلى الله عليه وسلم)  نے فرمایا :"کیا تم ان چوپایوں کے بارے میں جس کو اللہ نے تمہاری ملکیت میں دے رکھا ہے اللہ سے  نہیں ڈرتے ؟ کیونکہ اس نے مجھ سے یہ شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اوربرابرکام کرواکے اسے تھکاتے ہو" (ابوداود نے روایت کیا اورعلامہ البانی نے اسے صحیح قراردیا ہے)

حتى' کہ جمادات کوبھی رحمت محمدی (صلى الله عليه وسلم)  حاصل تھی .امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ جب نبی (صلى الله عليه وسلم)  کے لئے منبربنایا گیا تواس کجھورکے تنے نے, جس پرآپ  (صلى الله عليه وسلم) ٹیگ لگاکرخطبہ دیا کرتے تھے, بچے کی طرح رونے لگا, توآپ  (صلى الله عليه وسلم) منبرسے اترے اوراس کو اپنے سےچمٹا لیا,تووہ  اس  بچے کی طرح کراہنے (سسکنے) لگا جس کو خاموش کیا جائے , پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: "وہ جوکچھ ذکر(پند ونصیحت) سناکرتا تھا اس (کے فقدان) پر رونے لگا."

حسن رضی اللہ عنہ جواس حدیث کے راوی ہیں جب اس حدیث کوبیان کرتے رونے لگتے.اورکہتے:"اے مسلمانوں کی جماعت! جب لکڑی آپ (صلى الله عليه وسلم)  سے ملاقات کا مشتاق ہے تو تم سب سے زیادہ اس بات کے مستحق ہوکہ تمہارے اندر آپ (صلى الله عليه وسلم)  کا اشتیاق پیدا ہو." (فتح الباری 6/602)

منتخب کردہ تصویر

د. الحميد التقى مسؤولي برنامج التعريف بنبي الرحمة