Get Adobe Flash player

معلوم ہونا چا ہئےکہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) کے فضائل ومناقب بہت زیادہ ہیں اورانہی میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

اللہ رب العالمین نے آپ کی مکارم اخلاق اوربہترین صفات کے ساتہ تعریف کی ہے, جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے:)

وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ[  ( سورة القلم:4)

’’بے شک آپ بلند اخلاق کے مالک ہیں"

اورآپ  (صلى الله عليه وسلم) کا ارشاد ہے: "میری بعثت تواچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے ہوئی ہے." (رواہ الطبرانی) 

اللہ رب العالمین نے آپ(صلى الله عليه وسلم)  کی اپنی امت اورتمام لوگوں کے ساتہ رحمت ومہربانی کرنے کی تعریف فرمائی ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے:

) وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ [ (سورۃ الأنبیاء:107) 

’’اے محمد ہم نے آپ کوسارے جہان والوں کے لئے رحمت بنا کربھیجا ہے"

اوراللہ کا قول :)  وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا[ (سورة الأحزاب:43)

’’اوروہ مومنوں پربڑا  مہربان ہے"

اوراللہ کا قول :)  فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ [( سورةآل عمران:159)  

’’آپ محض اللہ کی رحمت سے ان لوگوں کے لئے نرم ہوئے ہیں ,اوراگرآپ بدمزاج اورسخت دل ہوتے تووہ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے (نہ پھٹکتے) "

اورآپ (صلى الله عليه وسلم)  کا فرمان ہے: "میں سراپا رحمت ہوںجواللہ کی طرف سے دنیا والوں کے لیے ہدیہ ہے" (حاکم نے روایت کی ہے اورالبانی نے اسکی تصحیح فرمائی ہے)

ولادت سے ہی  رب کریم  کی جانب سے آپ(صلى الله عليه وسلم)   کی رعایت ونگرانی کی گئی ہے:

جیساکہ اللہ کے اس قول میں ہے:  ) أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَى وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَى  وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَى[ (سورۃ الضحى':8)

’’کیا اس نے آپ کویتیم نہیں پایا تو آپ کو پنا ہ دی ,اوراس نے آپ کو (رشد وہدایت سے) غافل پایا توآپ کی رہنمائی کی , اوراس نے آپ کو فقیرومحتاج پایا توآپ کومالداربنادیا."

4- آپ  (صلى الله عليه وسلم) کے سینہ کو کھول دینا اورآپ (صلى الله عليه وسلم)  کے ذکرکوبلند کردینا جیسا کہ اللہ کے اس قول میں ہے : )أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ [ (  سورة الشرح:1 -4) 

’’کیا ہم نے آپ کا سینہ کھول نہیں دیا ہے اورہم نےآپ کے دل سے آپکا بوجھ اتاردیا ہے جوآپ کی پیٹھ کو توڑرہا تھا اورہم نے آپ کی خاطرآپکا نام اونچا کردیا ہے"

5-آپ  (صلى الله عليه وسلم) کا خاتم الأنبیاء ہونا جیسا کہ اللہ کے اس قول میں مذکورہے: 

) مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ  [ (سورة الأحزاب :40) 

’’محمد تم لوگوں میںسے کسی کے باپ نہیں ہیں , وہ تو اللہ کے رسول اورانبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں. "

اورآپ (صلى الله عليه وسلم)  کا ارشاد ہے:" میری اورسابقہ انبیاء کی مثال اس آدمی کے مانند ہے جس نے ایک گھربنایا تواسے اچھا اورکامل بنایا مگرایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ کوباقی رکھ دیا ,لوگ اس گھرکا چکرلگانے لگے اوراسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے اورکہتےکہ:" کاش اس اینٹ کو بھی رکھ دیا جاتا توعمارت پورے طورسے مکمل ہوجاتی ؟ تووہ اینٹ میں ہی ہوں. " (متفق علیہ ) 

6- دیگرانبیاء پرآپ (صلى الله عليه وسلم)  کى فضیلت 

جیساکہ آپ (صلى الله عليه وسلم)  کا ارشاد ہے: "مجھے دیگرنبیوں پرچھ چیزوں کے ذریعہ برتری دی گئی ہے :" مجھے جوامع الکلم (کم الفاظ میں بہت زیادہ معنى خیزاور ہمہ گیر بات کہنے کی صلاحیت ) دی گئی ہے اوررعب ودبدبہ کے ذریعہ میرے مدد کی گئی ہے, میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے, اورمیرے لئے ساری زمین کو پاک اورسجدۂ گا ہ بنادیا گیا ہے , اورمیری بعثت تمام مخلوق کے لئے ہوئی ہے, اورمجہ پرہی نبوت ورسالت ختم کردی گئی ہے."(رواہ مسلم)

7-آپ (صلى الله عليه وسلم)  کا مخلوق میں سب سے زیادہ پرہیزگاراور معززترین ہونا: جیساکہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) کا ارشاد ہے:"میں محمدبن عبداللہ بن عبد المطلب ہوں, بے شک اللہ رب العالمین نے مخلوق کو پیدا کیا تومجھے ان میں سب سے بہتربنایا , پھرانہیں دوٹولیوں میں کردیا , اورمجھے ان میں سے بہترین ٹولی میں بنایا, پھران کےقبائل بنائے , تو مجھے ان میں سے بہترین قبیلے میں پیدا کیا , پھران کےگھرانےبنائے  تومجھے ان میں سے سب سے بہترگھرانےمیں پیدا کیا ,تومیں گھرانےکے اعتبارسے سب سے بہترہوں اورنفس کے اعتبارسے بھی سب سے بہترہوں." (احمد اورابوداود نےروایت کی ہے اورالبانی نے اسکی تصحیح فرمائی ہے)

8-آپ (صلى الله عليه وسلم)  کا روزقیامت حوض کا مالک ہونا اورشفاعت کرنا:

آپ  (صلى الله عليه وسلم) کا ارشاد ہے :"میں سب سے پہلے حوض پرپہنچ کرتم لوگوں کا منتظرہوں گا تاکہ تم میں سے کچھ آدمیوں کو پیش کیا جائے یہاں تک کہ میں انہیں پہچان لونگا تو انہیں مجھ سے روک دیا جائیگا میں کہوں گا اے میرے رب!یہ میرے ساتھی ہیں, توکہا جائیگاکہ :" آپ کونہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کےبعد دین میں کیا کیا بدعتیں ایجاد کی تھیں." (رواہ البخاری)

نیزآپ  (صلى الله عليه وسلم) کا ارشادہے:" بے شک ہرنبی کی کوئی نہ کوئی دعا ہے جس کے ذریعہ انہوں نے دعا کی اوران کی دعاقبول کی گئی, لیکن میں نے اپنی دعا کو روزقیامت امتیوں کی شفاعت کے لئے بچا کررکھی ہے." (متفق علیہ) 

9-روزقیامت آ پ  (صلى الله عليه وسلم) کا لوگوں کا سردارہونا:

جیساکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کا ارشاد ہے:"میں قیامت کے دن آدم کی اولاد کا سردارہوں گا اور اسمیں کوئی فخرنہیں,اورمیرے ہاتھ میں حمد وتعریف کا جھنڈاہوگا اوراسمیں کوئی فخرنہیں, اورآدم اوران کے علاوہ جتنے بھی انبیاء ہیں سب کے سب میرے  جھنڈے کے نیچے ہوں گے , اورمیں سب سے پہلا سفارشی ہوں گا اورسب سے پہلے میری ہی سفارش قبول کی جائیگی اوراس میں کوئی فخرنہیں." (رواہ مسلم) 

10- آپ  (صلى الله عليه وسلم) سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے:جیسا کہ آپ (صلى الله عليه وسلم)  کا فرمان ہے:"سب سے پہلے میں جنت کے دروازہ کوکھٹکھٹاؤں گا,توخازن(داروغہ) کہے گا:"تم کون ہو؟ تومیں کہوں گا:"میں  محمد ہوں"تووہ کہے گا:"میں اٹھ کرتمہارے لئے(دروازہ) کھولتا ہوں ,آپ سے پہلے میں کسی کے لئے نہیں کھڑا ہوا ہوں ,اورنہ ہی آپ کے بعد کسی کے لئے کھڑا ہونگا"(رواہ مسلم) 

11- آپ  (صلى الله عليه وسلم) ہراس انسان کے لئے قدوہ ونمونہ ہیں جواللہ اورجنت کی کامیابی اور جہنم سے نجات کا متمنی ہے جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے : )  لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا[ (سورة الأحزاب:21)  

’’ في الحقيقت تم مسلمانوں کے لئے رسول اللہ کا قول وعمل ایک بہترین نمونہ ہے ,ان کے لئے جواللہ اوریوم آخرت کا یقین رکھتے ہیں ,اوراللہ کوبہت یا دکرتے ہیں."

12-آپ (صلى الله عليه وسلم)  خواہش نفس سے کوئی بات کہنے سے منزہ ومبراہیں بلکہ آپ کی دین وشریعت سے متعلق گفتگو وحی ہوا کرتی ہے جس میں باطل کا گذر نہیں ہوسکتا جیسا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا : )  وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى[ (سورۃ النجم: 3-4)  

’’وہ توخواھش نفس کی پیروی میں بات نہیں کرتے ہیں وہ تو وحی ہوتی ہے جوان پراتاری جاتی ہے."

منتخب کردہ تصویر

10.jpg