Get Adobe Flash player

اعداء اسلام کی طرف سے برابریہ الزام رہا ہے کہ اسلام نے عورتوں کے ساتھ ظلم کیا ہے اورانہیں برابرحقوق نہیں دیا ہے, اوراسے مردوں کی خدمت اورلطف اندوزی کا ساما ن کے طورپرپیش کیا ہے.

لیکن اس باطل کا پردہ آپ (صلى الله عليه وسلم)  کی طرف سے منقول باتوں کے ذریعہ فاش و بے نقاب   ہوجاتا ہے جیسے عورتوں کی تکریم, ان کی شان کو بلند کرنا, اسی طرح ان  سے مشاورت طلبی اوران کے ساتہ رفق ومہربانی اورتمام مواقف میں انصاف کرنا اورانہیں ہرطرح کے حقوق عطا کرنا وغیرہ جس کا ایک عورت اسلام سے قبل تصورتک نہیں کرتی تھی. 

اہل عرب طبعی طورپراسلام سے ماقبل لڑکیوں کو ناپسند کرتے تھے,اورانہیں عارکا باعث سمجھتے تھے. حتى' کی بعض جاہلی عرب  لڑکیوں کے زندہ درگورکرنے میں مشہورتھے,جیساکہ قرآن کریم نے اس کی تصویرکشی کی ہے: )  وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالأُنثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ  يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ مِن سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَلاَ سَاء مَا يَحْكُمُونَ[ ( سورة النحل: 58- 59) 

’’اوران میں سے کسی کو جب لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تواسکا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے, درانحالیکہ وہ غم سے نڈھال ہوتا ہے, جوبری خبراسے دی گئی ہے اسکی وجہ سے لوگوں سے منہ چھپائے پھرتا ہے(سوچتا ہے) کیا ذلت ورسوائی کے باوجود اسے اپنے پاس رکھے, یا مٹی میں ٹھونس دے, آگاہ رہو کہ انکا فیصلہ بڑا برا ہے"

زمانہ جاہلیت میں جب عورت کا شوہرفوت ہوجاتا تو اس کے لڑکے اوررشتہ داراس کے وارث بن جاتے, پس اگروہ چاہتے تو ان میں سے کسی کے ساتہ اسکی شادی کرادیتے, یا شادی کرنے سے محروم کردیتے یہاں تک کہ اس کی موت ہوجاتی تھی ,اسلام نے آکر ان سارے غلط نظام کو باطل قراردیا اورایک ایسا منصفانہ نظام مقررکیا جس سے عورتوں اورمردوں کوبرابرحقوق مل سکیں .

جیساکہ اللہ کے رسول (صلى الله عليه وسلم)  نے  انسانیت میں عورتوں کا مردوں کے برابر  ہونے کے بارے میں خبردیا ہے,آپ  (صلى الله عليه وسلم) کا ارشاد ہے: "بے شک عورتیں مردوں کے مثل ہیں" ( اسے احمد ,ابوداوداورترمذ نے روایت کیا ہے)

  اسلئے کہ اسلام میں مرد اورعورت کے جنس کے درمیا ن کوئی اختلاف وفرق نہیں ہےجیسا کہ اسلام کے دشمن اسکا تصوّر کرتے ہیں بلکہ دونوں جنسوں کے درمیان بھائی چارگی اورتکامل  پائی جاتی ہے.

اورقرآن کریم نے بھی(مردوعورت کے درمیان) ایمان وعمل اورجزاء کے اندر  برابری کے مسئلہ کو ثابت کیا ہےجیسا کہ اللہ تعالى' کا فرمان ہے:

] إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا[ (  سورة الأحزاب:35)

’’بے شک مسلمان مردوں اورمسلمان عورتوں کے لئے, اورمومن مردوں اورمومن عورتوں کے لئے ,اورفرماں بردارمر دوں اورفرماں بردارعورتوں کے لئے ,اورسچے مردوں اورسچی عورتوں کے لئے ,اورصبرکرنے والے مردوں اورصبرکرنے والی عورتوں کے لئے, اورعاجزی اختیارکرنے والے مردوں اورعاجزی اختیارکرنے والی عورتوں کے لئے, اورصدقہ کرنے والے مردوں اورصدقہ کرنے والی عورتوں کے لئے,اورروزہ دارمردوں اورروزہ دارعورتوں کے لئے ,اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد وں اوراپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتوں کے لئے ,اوراللہ کو خوب یاد کرنے والے مردوں اوراللہ کو خوب یاد کرنے والی عورتوں کے لئے اللہ نے مغفرت اوراجرعظیم تیا رکررکھا ہے"

اوراللہ کا ارشاد ہے : ] مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَى إِلَّا مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ[  (سورة غافر:40)

’’جوشخص برا عمل کرے گا ,اسے اسی جیسا بدلہ دیا جائیگا ,اورجواچھا عمل کرےگا ,چاہے وہ مرد ہویا عورت ,اوروہ مومن ہوگا, تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے, جہاں انھیں بے حساب روزی ملتی رہے گی."

اورآپ  (صلى الله عليه وسلم) نے اپنے بارے میں عورتوں سے محبت کرنے کی خود خبردی ہے جیساکہ آپ (صلى الله عليه وسلم)  کا ارشاد ہے:" مجھے تمہاری دنیا سے عورت اورخوشبو کومحبوب کردیا گیا ہے,اورمیری آنکھوں کی ٹھنڈک نمازمیں بنا دی گئی ہے."(رواہ احمد والنسائی وصححہ الألبانی)

اورجس طرح اللہ تعالى نے لڑکیوں کو زندہ درگور کردینے اوردفن کرنے کو حرام قراردیا ہے اسی طرح نبی  (صلى الله عليه وسلم) نے بھی اس بری عادت کو باطل قراردیا ہے,اورلڑکیوں کی تربیت دینے اور ان کے ساتہ بھلائی واحسان کرنے کی رغبت دلائی ہے, جیسا کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے:   "جس نے دوبچیو ں کی تربیت کی یہاں تک کہ بالغ ہوگئیں, توروزقیامت,وہ اس حال میں آئے گا کہ میں اوروہ اس طرح ہوں گے –اورآپ نے دونوں انگلیوں کوملایا – "(رواہ مسلم)

 اس میں اس کے بلند مرتبہ, اورآپ (صلى الله عليه وسلم)  سے قریب ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے. اوریہ مقام ورتبہ صرف اسے بلوغت وتکلیف کے مرحلے تک بیٹیوں کی تربیت ونگہبانی کرنے کی وجہ سے حاصل ہوا ہے .

اورآپ  (صلى الله عليه وسلم) کا فرمان ہے :" جس کے تین بیٹیاں ہوں , یاتین بہنیں ہوں ,یا دوبیٹیا ں یا دوبہنیں ہوں اوران کی اچھی طرح تربیت کی اوران کے بارے میں اللہ سے ڈرا تواس کے لئے جنت ہے" (ترمذی نے روایت کی اورالبانی نے اسکی تصحیح فرمائی ہے)

یقیناً آپ (صلى الله عليه وسلم) عورتوں کی تعلیم کے بڑے حریص تھے,آپ نے ان کی تعلیم ووعظ کے لئے ایک دن مقررکررکھا تھا جس میں وہ اکٹھا ہوتی تھیں اورآپ (صلى الله عليه وسلم) ان کے پاس آکراللہ نے آپ کو جو کچھ سکھایا تھا اس کی انہیں تعلیم دیتے تھے."(مسلم)

آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے عورتوں کوگھروں میں ہی نہیں محبوس کررکھا تھا جیساکہ اعداء اسلام گمان کرتے ہیں بلکہ آپ (صلى الله عليه وسلم)  انھیں انکی ضروریات کی تکمیل , رشتے داروں کی زیارت, مریضوں کی تیمارداری , اوربازاروں میں شرعی حجاب کا پابند ہوکرخرید وفروخت کیلئے گھرسے باہرنکلنے کی اجازت دیتے تھے. اسی طرح آپ   (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں مسجد جانے کی بھی اجازت مرحمت فرمائی , بلکہ آپ (صلى الله عليه وسلم)  نے انہیں مسجد سے روکنے پرمنع بھی کیا, جیساکہ آپ (صلى الله عليه وسلم)  کا فرمان ہے :" اپنی عورتوں کو مسجد وں میں جانے سے مت روکو." (رواہ احمد وابوداود)

 اورعورتوں کے سلسلے میں وصیت بھی فرمائی جیساکہ آپ کا ارشادہے:"لوگو!عوتوں کے ساتہ بھلائی کرنے کی(میری) وصیت قبول کرو" (متفق علیہ) 

اوریہ ان کے ساتھ حسن معاشرت, ان کے حقوق کی پاسداری, اوران کے جذبات کی رعایت اورکسی بھی قسم کی انہیں تکلیف نہ پہنچانے کا متقاضی ہے.

منتخب کردہ تصویر

HAZRET-İ MUHAMMED