Get Adobe Flash player

بے شک آ پ  (صلى الله عليه وسلم)کی نبوت کی عظیم ترین علامت قرآن عظیم ہے, وہ ایسی کتاب ہے جس کے ذریعہ اللہ رب العالمین نے عرب وعجم کوقیامت تک اس کے مثل پیش کرنے کا چیلنج کیا جیساکہ اللہ تعالى' کا ارشاد ہے :

] وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُواْ بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُواْ شُهَدَاءكُم مِّن دُونِ اللّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ[  (سورة البقرة:23)

’’اوراگرتم شک میں ہو اس (کلام) کی طرف سے جو ہم نے اپنے بندے پراتاراہے, تواس جیسی ایک سورت لے کرآؤ اوراللہ کے علاوہ اپنے مددگاروں کوبلالو, اگرتم سچے ہو"

اوراللہ نے فرمایا :]  أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُواْ بِسُورَةٍ مِّثْلِهِ وَادْعُواْ مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ[ (سورة يونس:38)

’’کیا یہ مشرکین کہتے ہیں کہ محمد نے اسے اپنی طرف سے گھڑلیا ہے, آپ کہیے کہ پھرتم لوگ اس جیسی ایک سورت لے آؤ اوراللہ کے سوا جسے اپنی مدد کے لئے بلاسکتے ہوبلا لو, اگرتم سچے ہو."

علامہ ابن جوزی فرماتے ہیں کہ قرآن کئی اعتبار سے معجزہ ہے:

اوّل : اختصار و طول کے اندر فصاحت وبلاغت پر مشتمل ہے, کبھی تولمبے واقعات بیا ن کئے جاتے ہیں پھر اسی قصہ کو اختصارکے ساتہ بغیرمعنی میں کمی کے دھرایا جاتا ہے.

دوم: اسلوب كلام اور اوزان شعرسے کافی جدا ہے اور انہی دونوں معانی کے اعتبارسے اہل عرب کو چیلنج کیا گیا, تو وہ عاجز رہ گئے اورحیرت وتعجب میں پڑکراس کے فضل و اعجازکواعتراف کرنے پرمجبورہوگئے, یہاں تک کہ ولید بن مغیرہ نے کہا: "اللہ کی قسم یہ انتہائی میٹھا ہے, اورنہایت ہی بارونق وخوشنما کلام ہے"

سوم:سابقہ امتوں کے واقعا ت اوران انبیاء کی سیرتوں پر مشتمل ہے جن کو اہل کتاب جانتے تھے, باوجودیکہ اس کو لانے والا ایک امی اورانپڑھ شخص تھا جس کو پڑھائی لکھائی کا کچھ بھی علم نہیں تھا, نہ ہی احبار اورکہان کی مجلسوں میں بیٹھتا تھا. 

اوراہل عرب میں سے جو  لکھنا پڑھنا جانتا تھا اور اخباری علما اورکاہنوں کی مجالست اختیارکرتا تھا وہ بھی قرآ ن کے بتائے ہوئے خبروں کونہیں جانتا ہے.

چہارم: مستقبل میں پیش آنے والے غیبی امورکے بارے میں خبردینا جوقطعی طورپراس کی صداقت کا پتہ دیتے ہیں کیونکہ وہ بعینہ اسی طرح واقع ہوئے ہیں جس طرح قرآن نے خبردیا تھا.

جیسے قرآ ن کا یہود کے بارے میں فرمانا :"توتم موت کی تمنا کرو اگرتم سچے ہو" (البقرۃ:94) پھرفرمایا : " اوروہ ہرگزموت کی تمنا نہیں کریں گے" (البقرۃ:95)

اسی طرح  قرآن کا یہ ارشاد:"  توتم قرآن کے مثل ایک سورت ہی لے کرآؤ"  

پھرفرمایا :"اورتم ایسا ہرگزنہیں کرسکتے " (البقرۃ 23-24)      

 تووہ لوگ ایسا نہیں کرپائے. 

اسی طرح قرآن کا یہ ارشاد:"آپ کافروں سے کہ دیجئے کہ تم مغلوب کیے جاؤگے" (آل عمران:12) اوروه حقيقت ميں مغلوب ہوئے.

اوراس کا یہ فرمان :"ان شاء اللہ تم  یقیناً پورے امن وامان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے" (الفتح:27) اوروه داخل هوئے.

اسی طرح ابولہب کے بارے میں خبردینا كہ:" وہ عنقریب بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کیا جائیگا, اور اس کی بیوی بھی جولکڑیا ں ڈھونے والی تھی, اس کی گردن میں پوست کھجور(یامونج) کی بٹی ہوئی رسی ڈالی جائے گی" (المسد: 3-5)

اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ دونوں کفرکی حالت میں موت پائیں گے. اوراسی طرح ہوا.

پنجم: قرآن اختلاف وتناقض سے پاک ہے,جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے :"اگریہ غیراللہ کی طرف سے ہوتا تووہ اس میں بہت ہی اختلاف پاتے " (النساء:82)

اوراللہ کا ارشاد ہے :"بے شک قرآ ن کو ہم نے ہی نازل فرمایا ہے اورہم ہی اسکی حفاظت کرنے والے ہیں" (الحجر:9)

ابوهريره رضي اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم)  نے فرمایا :" جتنے بھی انبیاء گزرے سب کو کوئی نہ کوئی نشانی دی گئی جن پران کی قوم کے لوگ ایمان لائے,البتہ مجھے وحی دی گئی ہے جس کی اللہ نے مجھے وحی کی ہے, تومجھے اللہ سے امید ہے کہ قیامت کے دن میں ان میں سب سے زیادہ پیروکاروں والا ہوں گا.(متفق علیہ)

ابن عقیل فرماتے ہیں :" قرآ ن کے اعجاز میں سے یہ بھی ہے کہ کسی کیلئے ممکن نہیں کہ قرآن میں ایک آیت بھی ایسی نکال دےجسکا معنى سابقہ کلام سے ماخوذ ہو, کیونکہ برابرلوگ ایک دوسرے کے خوشہ چیں رہے ہیں. کہا جاتاہے کہ :متنبی  نے اپنے کلام کوبحتری سے لیاہے !

ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"میں نے دوعجیب وغریب معنى مستنبط کیا ہے:

اول: یہ کہ انبیاء کے معجزات انکی موت کے ساتھ ختم ہوگئے, چنانچہ اگرکوئی بے دین آج کہے کہ: موسى' اورمحمد صلی اللہ علیہما السلام کے صدق وسچائی پرکون سا معجزہ دلالت کرتا ہے؟

تواس کوبتایاجائے کہ:"محمد (صلى الله عليه وسلم) کے لیےچاند کے دوٹکڑے ہوگئے, اورموسى' علیہ السلام کے لئے سمندرکو پھاڑدیاگیا, تووہ کہےگا کہ یہ محال ہے.

اسی لئے اللہ رب العزت نے اس قرآن کومحمد (صلى الله عليه وسلم) کے لیےابدی معجزہ قراردیا , تاکہ آپ  (صلى الله عليه وسلم)کی وفات کے بعد بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کی صداقت کی دلیل ظاہر ہوسکے. نیزاس کو دیگرانبیاء کی صداقت پربھی دلیل وحجت بنایا کیونکہ قرآن انکی تصدیق کرتاہے اور ان کے احوال کی خبردیتا ہے.

دوم: قرآن نے اہل کتاب کواس بات کی خبردی کہ محمد  (صلى الله عليه وسلم)کے اوصاف ان کے تورات اورانجیل میں موجود ہیں, اورحاطب رضی اللہ عنہ کے ایمان  ,اورعائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت وپاکدامنی كے بارے میں بھی گواہی دی,اوریہ سب گواہیاں غیبی طورپرتھیں, اگرقرآن اورانجیل میں آپ (صلى الله عليه وسلم)   کے اوصاف موجود نہ ہوتے تو وہ آپ (صلى الله عليه وسلم) پرایمان لانے سے نفرت کرتے ’اوراگرحاطب وعائشہ اپنے بارےمیں اس کی شہادت کو خلاف واقعہ جانتےتوایمان سے منتفرہوجاتے " 1

______________________________

1.  الوفا ص (273-267) باختصار.

منتخب کردہ تصویر