Get Adobe Flash player

آپ (صلى الله عليه وسلم) طائف والوں کے استہزا وتمسخرکے بعد مکہ واپس لوٹ آئے اورمطعم بن عدی کی پناہ میں اس کے اندرداخل ہوگئے.

اس تکذیب ومحاصرہ بندی اورظلم واستبداد سے بھرے ماحول میں اللہ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو اطمینان اورثابت قدمی عطا کرنا چاہا, اس لیےآپ کو اسراء ومعراج سے نوازا اوراپنی بڑی بڑی نشانیوں کو دکھایا, اوراپنی عظمت کے دلائل اورقدرت کی نشانیوں سے آگا ہ کیا , تاکہ یہ چیزیں کفراورکفارکے مقابلہ میں آپ کوقوت وطاقت فراہم کریں.

اسراء: آپ  (صلى الله عليه وسلم)کا  راتوں رات مکہ میں مسجد حرام سے بیت المقدس میں مسجد اقصى' تک جانا, پھراسی رات مکہ واپس آجانا.

معراج: آپ  (صلى الله عليه وسلم)کا عالم بالا تک جانا, اور انبیا ء سے ملاقات کرنا,اورغیبی دنیا کا مشاہدہ کرنا, اوروہیں پرپنجوقتہ نمازیں بھی فرض ہوئیں.

یہ حادثہ مومنوں  کے ایمان کی آزمائش کا سبب ثابت ہوا. اس لیے کہ  بعض مسلمان اس واقعہ کےبعد مرتد ہوگئے, اوربعض لوگ ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اوران سے کہاکہ:تمہارا ساتھی تویہ گمان کرتا ہے کہ اس نے آج رات بیت المقدس کی سیرکی ہے؟ توصدیق اکبرنے کہا:"کیا انہوں نے ایسا کہا ہے؟ تولوگوں نے کہا : ہاں, توابوبکررضی اللہ عنہ نے کہا:"اگرانہوں نےایسا کہا ہے توسچ کہا ہے, توان لوگوں نے کہا : کیا آپ اس کی تصدیق کرتےہیں کہ وہ رات بھر میں مکہ سے بیت مقدس تک گئے اورصبح ہونے سے پہلے مکہ واپس آگئے؟

 توابوبکرصدیق نے کہا :ہاں ,میں تواس سے بھی بڑی بات میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کی تصدیق کرتا ہوں ,میں توان کے صبح وشام آسمانی خبروں کی تصدیق کرتا ہوں. اسی وجہ سے ابوبکررضی اللہ عنہ کا لقب صدیق پڑگیا.

جب قریش نے آپ  (صلى الله عليه وسلم)کی تکذیب کی اورآپ کی دعوت کی ادائیگی میں رخنہ ڈالنے لگے توآپ (صلى الله عليه وسلم)عرب کے دیگرقبائل کی طرف متوجہ ہوئے, چنانچہ طائف سے واپسی کے بعد آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اپنے آپ کو حج میں آئے ہوئےقبائل پرپیش کرنا شروع کردیا, انہیں اسلام کے بارےمیں بتاتے ,اورانہیں کے پاس پناہ ونصرت طلب کرتے یہاں تک کہ اللہ کے کلام کوپہنچا سکیں.

توان میں سے کچھ لوگوں نے بہت برا جواب دیا , اوربعض نےاچھا جواب دیا,اوران میں سب سے براجواب دینے والے بنوحنیفہ کے لوگ تھے جو مسیلمہ کذاب کے قبیلے سے تھے.

 عرب میں سے جن لوگوں پرآپ (صلى الله عليه وسلم) نے اپنی دعوت پیش کی ان میں یثرب کے قبیلہ اوس کے چند لوگ بھی تھے. جب آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے ان سے بات کی تووہ آپ(صلى الله عليه وسلم) کے ان اوصا ف کوپہچان لئے جن سے یہود آپ کو متصف کیا کرتے تھے, تو انہوں نے آپس میں کہا: "اللہ کی قسم !یہ وہی نبی ہیں جن کا یہود ہم سے وعدہ کرتے تھے,تویہود ہم سے سبقت نہ کرنے پائیں",چنانچہ ان میں سے چھ لوگ ایمان لے آئے جومدینہ میں اسلام کے پھیلنے کا سبب بنے,ان چھحضرات کے نام اسطرح سے ہیں:اسعد بن زراره, عوف بن حارث, رافع بن مالك, قطبہ بن عامر بن حدیدہ, عقبہ بن عامراورسعد بن ربیع رضی اللہ عنہم اجمعین.

پھروہ لو گ آپ (صلى الله عليه وسلم) سے آئندہ سال ملنے کا وعدہ کرکے واپس چلے گئے.

 جب اگلا سال آیا جوکہ بعثت کا بارہواں سال تھا توبیعت عقبہ اولى' پیش آیا, جس میں بارہ آدمیوں نے آپ  (صلى الله عليه وسلم)سے بیعت کی,دس قبیلہ اوس کے اوردوخزرج کے تھے. ان میں سے پانچ پہلے چھ لوگوں میں سے تھے,عقبہ کے پاس وہ لوگ ایمان لائے ,اورآپ پرایمان لانے, آپ کی تصدیق کرنے ,شرک ومعصیت سے بیزاری ,بھلائی کے کام کرنے اورصرف حق بات کہنے پر آپ (صلى الله عليه وسلم) سے بیعت کی. پھروہ مدینہ واپس چلے گئے. پس اللہ نے انکے اندراسلام کو ظاہرکردیا اورمدینہ کے گھر گھر میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا چرچا ہونے لگا.

بیعت عقبہ اولی' کے دوسرے سال یعنی بعثت نبوی کے تیرہویں سال بیعت عقبہ ثانیہ پیش آئی, اس سال آپ (صلى الله عليه وسلم) کے پاس سترمرد اور دو عورتیں تشریف لائیں, سب نے اسلام قبول کیا اور عقبہ کے پاس خوشی وغمی (چستی وسستی) میں آپ کی سمع واطاعت کرنے, تنگی وفراخدلی میں خرچ کرنے, بھلائی کا حکم دینے اوربرائی سے روکنے,اللہ کے خاطرکسی لومت لائم کی پرواہ نہ کرنے اورآپ کی نصرت ومدد کرنے پر آپ (صلى الله عليه وسلم) سے بیعت کیا. 

پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے ان سےبارہ نقیبوں کوچننے کا حکم دیا تاکہ وہ اپنی اپنی قوم کے معاملات کے ذمہ دار ہوں, توخزرج میں سے نو اور اوس میں سے تین نقیبوں کا انہوں نے انتخاب کیا  , پھرآپ (صلى الله عليه وسلم) نے ان نقباء سے فرمایا کہ تم لوگ اپنی اپنی قوم کے اسی طرح  نگراں(کفیل) ہو جس طرح حواری عیسى' علیہ السلام کی جانب سے کفیل تھے. اورمیں اپنی قوم یعنی مسلمانوں کا کفیل ہوں. پھروہ لوگ مدینہ واپس ہوگئے, چنانچہ وہاں کے لوگوں میں اسلام پھیل گیا1. 

اوریہ ہجرت نبوى (صلى الله عليه وسلم) کا مقدمہ تھا.

____________________________

 1.ديکھیے: لباب الخیار فی سیرۃ المختار ص (42,43).

منتخب کردہ تصویر

Hafsah Bint ‘Umar: the Prophet’s wife in Paradise -II