Get Adobe Flash player

 جب آپ  (صلى الله عليه وسلم)کے صحابہ کے ساتھ ایذارسانی بڑھ گئی توآپ نے انہیں مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی, اورآپ (صلى الله عليه وسلم) اس بات سے مطمئن تھے کہ مدینہ شریف میں دعوت پھیل چکی ہے, اورمہاجرین کے استقبال کیلئے فضا ہموارہوچکی ہے.

چنانچہ مومنوں نے ہجرت میں جلد ی کی , اوروہ گروہ گروہ کرکے ایک کے پیچھے ایک نکلنے لگے. 

 نبی  (صلى الله عليه وسلم)اورآپ کے ہمراہ ابوبکر اور علی رضی اللہ عنہما باقی رہ گئے, اسی طرح وہ لوگ بھی جن کومشرکین نے زبردستی روک رکھا تھا.

جب قریش کو پتہ چلا کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے صحابہ ایک محفوظ سرزمین کی طرف جارہے ہیں تواس دین کے پھیلاؤ سے خوف محسوس کیا اورآپ (صلى الله عليه وسلم) کوقتل کرنےپرسب متفق ہوگئے. 

جس رات انہوں نے آپ  (صلى الله عليه وسلم)کوچپکے سے قتل کرنے کی ناپاک سازش رچی تھی, اللہ نے اپنے نبی (صلى الله عليه وسلم)  کوانکی سازش سے باخبرکردیا اورآپ کوہجرت کرکے ان مومنوں سے جاملنےکا حکم دیدیا جوہجرت کرگئے تھے. نیز آپ کو اس رات اپنی بستر پرسونے سے منع کردیا. 

آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پرلیٹنے اوراپنی چادرسےڈھکنےکے لیے کہا, اوریہ حکم دیا کہ آپ کی طرف سے لوگوں کی امانتوں کو ان کے حوالے کردینا, علی رضی اللہ عنہ نے آپ کے حکم کی تعمیل کی اورآپ کے بستر پر لیٹ گئے درانحالیکہ دروازے کے پیچھے تلواریں سونتی ہوئی تھیں.

آپ  (صلى الله عليه وسلم)ان کافروں کے بیچ سے ہوتے ہوئے باہرنکلے جوآپکو قتل کرنا چاہتےتھے,مگرالل نے انکی آنکھوں پرپردہ ڈالدیا,اورنبی (صلى الله عليه وسلم) نے ان کی ذلت کےطورپرانکے سروں پر مٹی ڈالدی ,پھرآپ (صلى الله عليه وسلم) ابوبکرصدیق کے گھرتشریف لے گئےاوررات ہی میں دونوں جلدی جلدی نکل پڑے.

نبی (صلى الله عليه وسلم) اور ابوبکر روانہ ہوئے یہاں تک کہ غارثورکے پاس پہنچ گئے اورغارمیں ہی ٹہرے رہے یہاں تک کہ آپ کی تلاش وجستجومیں کمی ہوگئ.

جب قریش کواپنی چال کے فاسد اور اپنےمنصوبے کےناکام ہوجانے کا علم ہوا توانکاغصھ بھڑک اٹھا, اورانہوں نے ہرچہارجانب آپ کی تلاش کرنے والوں کو بھیجا اورجوشخص آپ کولے کرآئے یا آپکا پتہ بتائے اسکے لئے سواونٹ انعام مقررکردیا.اورآپ (صلى الله عليه وسلم) کو تلاش کرتے کرتے لوگ غارکے دہانے تک پہنچ گئے اور اس کے پاس کھڑے ہوگئے,مگراللہ نے انکو آپ سے پھیردیا, اوراپنے نبی کو انکی چال سے محفوظ رکھا.

اس وقت ابوبکررضی اللہ عنہ نے فرمایا :"اے اللہ کے رسول !اگران میں سے کسی نے اپنے قدموں کی جانب دیکھا تووہ ہمیں دیکھ لیں گے.تورسول (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں جواب دیا:"تمہاراان دونوں کے بارے میں کیا گمان ہے جنکا تیسرا اللہ ہے." (رواہ البخاری)

تین دن کے بعد آپ کے پاس دونوں سواریوں کے ساتہ وہ رہبرآیا جس کوآپ نے سابقہ منصوبہ بندی کے تحت کرایہ پہ لے رکھا تھا. پھرانہوں نے مدینہ کا رخ کیا.

راستے میں آپ  (صلى الله عليه وسلم)ام معبد خزاعیہ کے خیمہ سے گزرے ,اورآپ (صلى الله عليه وسلم) کی وجہ سے انکو ان کی ایک بکری جس کے تھن میں ایک بوند بھی دودھ نہیں تھا, برکت پہنچی. آپ  (صلى الله عليه وسلم)نےان سےاسےدوہنے کی اجازت مانگی, تواسکا تھن دودھ سے بھرگیا, توآپ نے ان کوپلایا اوراپنے ہمراہ لوگوں کوبھی پلایا, پھرآپ (صلى الله عليه وسلم)نے خود پیا , پھر آپ (صلى الله عليه وسلم) نے دوبارہ برتن میں دودھ دوہ کربھردیا اوروہاں سے چل دیے.

سراقہ نے جب سنا کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ساحل کا راستہ اختیارکیا ہے, اوروہ قریش کے انعام کی لالچ میں تھا ,توفوراً اس نے اپنا نیزہ لیا اور گھوڑے پرسوارہوکرآپ  (صلى الله عليه وسلم)کے تلاش میں نکل پڑا, جب وہ آپ (صلى الله عليه وسلم) سے قریب ہوگیا توآپ (صلى الله عليه وسلم) نے اس پربددعا کردی توگھوڑے کے دونوں ہاتھ زمین میں دھنس گئے. اسےمعلوم ہوگیا کہ یہ سب نبی (صلى الله عليه وسلم) کی بددعا کے سبب ہورہا ہے,اورآپ (صلى الله عليه وسلم) محفوظ کردیے گئے ہیں, تواسنے آپ (صلى الله عليه وسلم) سے امان طلب کی اوریہ عہد کیا کہ آپ کوتلاش کرنے والوں کو واپس لوٹادے گا, تورسول      (صلى الله عليه وسلم) نے اس کے لئے دعا فرمائی توگھوڑے کے دونوں ہاتھ نکل گئے, چنانچہ وہ واپس لوٹ گیا اورجس سمت آپ (صلى الله عليه وسلم) نکلے تھے اس سمت میں تلاش کرنے سے لوگوں کو پھیرنے لگا. 

انصارہرروز مدینہ میں داخل ہونے والے راستہ کی جانب نکلتے اورآپ (صلى الله عليه وسلم) کی آمد کا انتظارکرتے, پھرجب دھوپ زیادہ ہوتی تواپنے اپنے گھروں کو واپس ہوجاتے , جب پیربارہ ربیع الأول نبوت کے تیرہویں سال کی ابتداء تھی کہ کسی پکارنے والے نے آپ  (صلى الله عليه وسلم)کی آمد کے بارے میں پکارا تو ہر جگہ چیخ وپکار اورتکبیرسنائی پڑنے لگی.  اورسب لوگ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے استقبال کے لئے نکل پڑے.

آپ  (صلى الله عليه وسلم)قباء میں اترے, اوروہاں مسجد قباء کی بنیاد رکھی, اوریہ اسلام میں  سب سے پہلی مسجد تھی.

چند دن قباء میں گزارکرآپ (صلى الله عليه وسلم) وہاں سے نکلے اورراستے میں جمعہ کاوقت ہوگیا توآپ نے اپنے ہمراہ لوگوں کوجمعہ کی نمازپڑھائی اوریہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کا سب سے پہلا جمعہ تھا, نمازکے بعد آپ (صلى الله عليه وسلم) جنوبی طرف سے مدینہ میں داخل ہوئے,اوراسی وقت سے اسکا نا م نبی کاشہر(مدینۃ النبی)ہوگیا. مدینہ کے لوگوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کی آمد پربہت ہی خوشی ومسرت کا اظہارکیا اوراس طرح سے اسلام کا ایک مضبوط  گھرہوگیا جہاں سے اللہ کے پیغام کوساری دنیا میں لوگوں تک پہنچایا جانے لگا.

منتخب کردہ تصویر