Get Adobe Flash player

آپ  (صلى الله عليه وسلم)دنیا کی حقیقت اوراس کي سرعت زوال کو جانتے تھے ,اسلئے آپ مسکینوں کی زندگی بسرکرتے نہ کہ مالداراوربے جا اسراف کرنے والوں کی . آپ (صلى الله عليه وسلم) جب  بھوکے ہوتے توصبر کرتے,اورجب آسودہ ہوتے توشکرکرتے.

آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے دنیا کے فتنہ کی خطرناکی اوراس کی لذتوں اورشہوتوں میں ڈوبنے سے اپنی امت کومنع فرمایا ہے,جیساکہ آپکا فرمان ہے:" بے شک دنیا میٹھی اورسرسبز ہے,اوراللہ تم کواس کا جانشین بنانے والا ہے,چنانچہ وہ دیکھے گا کہ تم کون سا عمل کرتے ہو, اسلئے دنیاسے اورعورتوں سے ڈروکیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں ہی کے سبب(یابارے میں) تھا"(رواہ مسلم)

آپ  (صلى الله عليه وسلم)جانتے تھے کہ دنیا ان لوگوں کا گھرہے جن کا کوئی گھرنہیں اوران لوگوں کی جنت ہے جنکا کوئی حصہ نہیں,اس لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) کہا کرتے تھے:"اے اللہ! زندگی تو درحقیقت آخرت کی زندگی ہے. " 

نبی (صلى الله عليه وسلم)کی طرز زندگی

آپ  (صلى الله عليه وسلم)دنیا کی حقیقت اوراس کي سرعت زوال کو جانتے تھے ,اسلئے آپ مسکینوں کی زندگی بسرکرتے نہ کہ مالداراوربے جا اسراف کرنے والوں کی . آپ (صلى الله عليه وسلم) جب  بھوکے ہوتے توصبر کرتے,اورجب آسودہ ہوتے توشکرکرتے.

آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے دنیا کے فتنہ کی خطرناکی اوراس کی لذتوں اورشہوتوں میں ڈوبنے سے اپنی امت کومنع فرمایا ہے,جیساکہ آپکا فرمان ہے:" بے شک دنیا میٹھی اورسرسبز ہے,اوراللہ تم کواس کا جانشین بنانے والا ہے,چنانچہ وہ دیکھے گا کہ تم کون سا عمل کرتے ہو, اسلئے دنیاسے اورعورتوں سے ڈروکیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں ہی کے سبب(یابارے میں) تھا"(رواہ مسلم)

آپ  (صلى الله عليه وسلم)جانتے تھے کہ دنیا ان لوگوں کا گھرہے جن کا کوئی گھرنہیں اوران لوگوں کی جنت ہے جنکا کوئی حصہ نہیں,اس لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) کہا کرتے تھے:"اے اللہ! زندگی تو درحقیقت آخرت کی زندگی ہے. " 

اسی لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے آخرت کواپنا مقصد بنالیاتھا,اوردناوی فکرسے اپنے دل کوفارغ کررکھاتھا, آپ (صلى الله عليه وسلم) کے پاس دنیا دوڑکرآتی,توآپ اس سے دوررہتے اورکہتے :"مجھے دنیا سے کیا واسطہ , میں تودنیا میں اس مسافرکی مانند ہوں جوکسی درخت کے سایہ میں بیٹھ کرآرام فرمایا پہروہاں سے اٹھ کر چل دیا." (ترمذی نے روایت کرکےاسے حسن قراردیا ہے) 

عمروبن حارث جونبی  (صلى الله عليه وسلم)کی بیوی جویریہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں فرماتے ہیں کہ :"آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اپنی موت کے وقت نہ توکوئی دینا رودرہم چھوڑا, نہ ہی کوئی غلام اورلونڈی اورنہ کوئی چیز چھوڑی,مگروہ سفید خچرجس پرآپ  (صلى الله عليه وسلم)سوارہوتے تھے اوراپنا اسلحہ,اوروہ زمین جس کوآپ نے مسافروں کے لیے صدقہ کردیا تھا" (رواہ البخاری) 

یہ مخلوق کے سردار-ان پراللہ کی  بےشمار رحمتیں نازل ہوں- کا ترکہ ومیراث تھی,آپ (صلى الله عليه وسلم) نے بادشاہت کو ٹھکرادی, اورایک بندہ ورسول بننے کو ترجیح دی, جیساکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : "جبرئیل علیہ السلام آپ (صلى الله عليه وسلم)  کے پاس بیٹھے اورآسمان کی طرف نظراٹھائی تو دیکھا کہ فرشتہ اتررہا ہے, جبرئیل نے آپ سے کہا :" یہ فرشتہ جب سے پیدا کیا گیا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں نازل ہوا,توجب وہ اترا تواس نے کہا:"اے محمد! مجھے تمہارے رب نے تمہاری طرف کہ کربھیجا ہے کہ کیا میں آپ کوبادشاہ بنادوں ,یا بندہ اوررسول ؟ توجبرئیل علیہ السلا م نے ان سے فرمایا : "اے محمد!اپنے رب کے لئے تواضع ونرمی اختیارکیجئے,توآ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا :"نہیں بلکہ میں بندہ اوررسول ہی بننا چاہتا ہوں"(ابن حبان نے روایت کی ہے اورالبانی نے اسے صحیح قراردیا ہے)

اس طرح آپ (صلى الله عليه وسلم) کی طرززندگی تواضع وزہد اورپاکدامنی پرمبنی تھی, جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں كہ:" آپ (صلى الله عليه وسلم) کا انتقا ل ہوگیا اورمیرے گھرمیں کھانے کے لئے ایک الماری میں جَوکےسوا کچہ اور نہیں تھا , تومیں نے اس میں سے کچھ کھا یا یہاں تک کہ مدت طويل  ہوگیا , تو میں نےاسے ناپ دیا تو وہ( بھی) ختم ہوگیا." (متفق علیہ) 

عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نےیہ ذکرکرتےہوئے کہ لوگوں نےکس طرح دنیاوی سازوسامان جمع کرلیے ہیں, فرمایا:"میں نے رسول  (صلى الله عليه وسلم)کو دیکھاہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) دن بھر بھوک سے سکڑے ہوئے رہتے تھے, آپ (صلى الله عليه وسلم) اپنا پیٹ بھرنے کے لیے ردی کھجور تک نہیں پاتے تھے."(مسلم)

انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا:"مجھے اللہ کے راستے میں  ڈرایا گیا جبکہ کسی کوکوئی ڈرنہیں, اورمجھے اللہ کے راستے میں تکلیف پہنچائی گئی,جبکہ کسی کو اس طرح کی تکلیف نہیں پہنچائی گئی, اورمجھ پرایک مہینہ ایسا بھی گزراہے کہ میرے لئے اوربلال کے لئے کھا نے کا کوئی سامان نہ تھا مگراتنا کہ جتنا بلال کے بغل میں چھپا یا جاسکے." (ترمذی نے روایت کیا اوراسے حسن قراردیا ہے)

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ :"آپ (صلى الله علي

اسی لئے آپ (صلى الله عليه وسلم) نے آخرت کواپنا مقصد بنالیاتھا,اوردناوی فکرسے اپنے دل کوفارغ کررکھاتھا, آپ (صلى الله عليه وسلم) کے پاس دنیا دوڑکرآتی,توآپ اس سے دوررہتے اورکہتے :"مجھے دنیا سے کیا واسطہ , میں تودنیا میں اس مسافرکی مانند ہوں جوکسی درخت کے سایہ میں بیٹھ کررہوتے تھے اوراپنا اسلحہ,اوروہ زمین جس کوآپ نے مسافروں کے لیے صدقہ کردیا تھا" (رواہ البخاری) 

یہ مخلوق کے سردار-ان پراللہ کی  بےشمار رحمتیں نازل ہوں- کا ترکہ ومیراث تھی,آپ (صلى الله عليه وسلم) نے بادشاہت کو ٹھکرادی, اورایک بندہ ورسول بننے کو ترجیح دی, جیساکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : "جبرئیل علیہ السلام آپ (صلى الله عليه وسلم)  کے پاس بیٹھے اورآسمان کی طرف نظراٹھائی تو دیکھا کہ فرشتہ اتررہا ہے, جبرئیل نے آپ سے کہا :" یہ فرشتہ جب سے پیدا کیا گیا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں نازل ہوا,توجب وہ اترا تواس نے کہا:"اے محمد! مجھے تمہارے رب نے تمہاری طرف کہ کربھیجا ہے کہ کیا میں آپ کوبادشاہ بنادوں ,یا بندہ اوررسول ؟ توجبرئیل علیہ السلا م نے ان سے فرمایا : "اے محمد!اپنے رب کے لئے تواضع ونرمی اختیارکیجئے,توآ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا :"نہیں بلکہ میں بندہ اوررسول ہی بننا چاہتا ہوں"(ابن حبان نے روایت کی ہے اورالبانی نے اسے صحیح قراردیا ہے)

اس طرح آپ (صلى الله عليه وسلم) کی طرززندگی تواضع وزہد اورپاکدامنی پرمبنی تھی, جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں كہ:" آپ (صلى الله عليه وسلم) کا انتقا ل ہوگیا اورمیرے گھرمیں کھانے کے لئے ایک الماری میں جَوکےسوا کچہ اور نہیں تھا , تومیں نے اس میں سے کچھ کھا یا یہاں تک کہ مدت طويل  ہوگیا , تو میں نےاسے ناپ دیا تو وہ( بھی) ختم ہوگیا." (متفق علیہ) 

عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نےیہ ذکرکرتےہوئے کہ لوگوں نےکس طرح دنیاوی سازوسامان جمع کرلیے ہیں, فرمایا:"میں نے رسول  (صلى الله عليه وسلم)کو دیکھاہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) دن بھر بھوک سے سکڑے ہوئے رہتے تھے, آپ (صلى الله عليه وسلم) اپنا پیٹ بھرنے کے لیے ردی کھجور تک نہیں پاتے تھے."(مسلم)

انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا:"مجھے اللہ کے راستے میں  ڈرایا گیا جبکہ کسی کوکوئی ڈرنہیں, اورمجھے اللہ کے راستے میں تکلیف پہنچائی گئی,جبکہ کسی کو اس طرح کی تکلیف نہیں پہنچائی گئی, اورمجھ پرایک مہینہ ایسا بھی گزراہے کہ میرے لئے اوربلال کے لئے کھا نے کا کوئی سامان نہ تھا مگراتنا کہ جتنا بلال کے بغل میں چھپا یا جاسکے." (ترمذی نے روایت کیا اوراسے حسن قراردیا ہے)

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ :"آپ (صلى الله عليه وسلم) لگاتارراتیں گذارتے تھےاس حال میں کہ آپ کے اہل بھوکے ہوتے شام کا کھانا نہیں پاتے تھےاوراکثروہ جو کی روٹی پراکتفا کرتےتھے" (ترمذی نے روایت کرکےاسے حسن قراردیا ہے)

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں "آ پ (صلى الله عليه وسلم)  دسترخوان پرنہیں کھائے یہاں تک کہ وفات پاگئے,اور نہ ہی نرم وباریک روٹی کھائی یہاں تک کہ وفات ہوگئی" (رواہ البخاری) 

آپ (صلى الله عليه وسلم) چٹائی پربیٹھتے اوراسی پر سوتے تھے,جیساکہ عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کے پاس داخل ہوا اس حال میں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) چٹائی پر  تھے,عمررضی اللہ عنہ کہتے کہ میں بیٹھ گیا توکیا دیکھتا ہوں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) پر صرف ازارتھا اسکے علاوہ کچہ بھی نہیں تھا, اور چٹائی کے نشانات آپ (صلى الله عليه وسلم) کے پہلو پرپڑے ہوئے تھے, اورجوکا ایک گٹھرجو تقریبا ایک  صاع کے برابر تھا اور کمرے کے ایک گوشہ میں قرظ- برگ سلمّ- تھی, اورایک چمڑا لٹکا ہوا دیکھا تومیری آنکہوں سے آنسوجاری ہوگئے, توآپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: "اے عمر!تمہیں کس چیزنے رلادیا؟ عمرنے کہا: اے اللہ کے نبی! میں کیوں نہ روؤں جبکہ آپ کے پہلومیں اس چٹائی کے نشان پڑ چکے ہیں ,اور آپ کی اس الماری میں جوکچہ ہے اسے میں دیکھ ہی رہا ہوں,جبکہ قیصروکسرى' نہروں اورپھلوں میں دادعیش دے رہے ہیں,اورآپ اللہ کے نبی اورچہیتے ہوتے ہوئے بھی آپ کی اسطرح حالت ہے ! توآپ (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا :"اے خطاب کے بیٹے! کیا تم اس بات سے نہیں خوش ہوتے کہ ہمارے لئے آخرت ہے اورانکے لئے دنیا ؟" (ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اورمنذری نے اسکی تصحیح فرمائی ہے)

منتخب کردہ تصویر