Get Adobe Flash player

صحیح تر قول کے مطابق شوال 5ھ ہجری میں غزوہ احزاب پیش آیا جوغزوہ خندق کے نام سے مشہورہے. 

غزوہ کا سبب : جب آپ (صلى الله عليه وسلم) نے یہود بنی نضیرکو جنہوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کے قتل کی ناپاک کوشش کی تھی,مدینہ سے جلاوطن کردیا, توان کے سرداروں کا ایک گروہ مکہ پہنچا,اورقریش کورسول (صلى الله عليه وسلم) کے خلاف جنگ کرنے پر ابھارتے اور اکساتے ہوئے انہیں اپنی مدد کا یقین دلایا توقریش تیارہوگئے,اورآپ (صلى الله عليه وسلم)سے قتال کے لئے ان کے ساتھ متحد ہوگئے, پھریہودی سرداروہاں سےنکل کربنوغطفان اوربنوسلیم کے پاس آئے اور انہیں بھی آمادہ جنگ کیا, چنانچہ وہ بھی تیار ہوگئے , پھروہ بقیہ قبائل عرب میں گھوم گھوم کرآپ (صلى الله عليه وسلم) سے جنگ کرنے کی انہیں ترغیب دی.

قریش ابوسفیان کی قیادت میں چارہزارلشکرکے ساتہ نکلے جن میں تین سوگھوڑسوار,اورپدرہ سواونٹ تھے,جب یہ لشکرمرّالظہران پہنچا توبنوسلیم  کےسات سو لوگ اس میں شامل ہوگئے, ان کے ساتھ بنواسد بھی روانہ ہوئے,  اسی طرح فزارہ کےایک ہزاراوراشجع کے چارسو اوربنومرہ کے بھی چارسو آدمی انکے ساتہ روانہ ہوئے, اورتمام لوگوں کی تعداد جوخندق میں ملے دس ہزارتھی اوروہی احزاب ہیں.

جب رسول (صلى الله عليه وسلم) کو مکہ سے انکے پہنچنے کا پتہ چلا تو لوگوں کوبلایا, توسلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مدینہ اوردشمنوں کے بیچ خندق کھودنے کا مشورہ دیا, توآپ نے اسکا حکم دیدیا, اورمسلمانوں نے اس کے کھودنے کی طرف مبادرت کی, اورآپ (صلى الله عليه وسلم) خود بھی اس کی کھدائی میں شریک ہوئے,اورخندق کی کھدائی سلع نامی پہاڑکے سامنے ہوئی, اسطرح سے کہ مسلمانوں نے پہاڑکواپنی پشت کے پیچھے کردیا اورخندق کو اپنے اورکافروں کے بیچ کردیا.

مسلمان خندق کے کھدائی سے چھ (6) دن میں فارغ ہوئے, توآپ  (صلى الله عليه وسلم)اور صحابہ کرام جنکی تعداد تین ہزارتھی پہاڑکےپیچھے اورخندق کوسامنے رکھکر قلعہ بند ہوگئے.

نبی  (صلى الله عليه وسلم)نےعورتوں اوربچوں کے بارے میںحکم دیا اور وہ مدینہ کی گڑھیوں میں محفوظ کردیے گئے.

حیّ بن اخطب بنی قریظہ کے پاس گیا,  بنوقریظہ اوررسول (صلى الله عليه وسلم) کے مابین عہد وپیمان تھا,تووہ خبیث برابران کو اکساتا اور بھڑکاتا رھا یہاں تک کہ انہوں نے رسول (صلى الله عليه وسلم)کے ساتہ جومعاہدہ تھا اسے توڑدیا,اورمشرکی کے ساتہ رسول کے خلاف جنگ کرنے کے لئے شامل ہوگئے. اوراسطرح سے مسلمانوں پرآزمائش بڑھ گئی, اور نفاق نے سرنکالا, بنوحارثہ کے کچھ لوگوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) سے مدینہ واپس جانے کی اجازت مانگی اورکہا:" ہمارے گھرغیرمحفوظ ہیں ,حالانکہ وہ غیرمحفوظ نہیں تھے,وہ توبس بھاگنا چاہتے تھے" [الأحزاب:13]

اوربنوسلمہ نے پسپائی کاارادہ کرلیا پھراللہ رب العالمین نے دونوں جماعتوں کوثابت قدمی عطا کی. 

براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : "جب آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے ہمیں خندق کے کھودنے کا حکم دیا توخندق کے ایک حصھ  میں ایک چٹان آڑے آگیا جس سے کُدال اچٹ جاتی تھی, ہم نے آپ (صلى الله عليه وسلم)  سےاسکی شکایت کی ,توآپ  (صلى الله عليه وسلم)آئے,جب اسے دیکھا توآپ (صلى الله عليه وسلم) نے اپنا کپڑا نکالا ,کدال لی, اور"بسم اللہ " کہہ کر کے ایک ضرب لگائی تواسکا تہائی حصہ ٹوٹ گیا, اورفرمایا :"اللہ اکبر, مجھے شام کی کنجیا ں دی گئی ہیں, اللہ کی قسم! میں اسوقت اس کے سرخ محلوں  کو دیکہ رہا ہوں"  پھردوسری مرتبہ مارا, تواس کا دوتہائی ٹوٹ گیا, اورفرمایا :"اللہ اکبر,مجھے فارس کی کنجیاں عطا کی گئی ہیں,اللہ کی قسم !میں اسوقت مدائن کا  سفید محل دیکھ رہا ہوں" پھرآپ نے تیسری بارمارا تو بقیہ پتھرٹوٹ گیا, اورفرمایا :"اللہ اکبر, مجھے یمن کی کنجیاں عطا کی گئی ہیں, اللہ کی قسم میں اسوقت یہاں سے صنعاء کےپھاٹک دیکہ رہاہوں"

مشرکوں نے ایک ماہ تک رسول  (صلى الله عليه وسلم)کا محاصرہ کررکھا اورانکے مابین خندق کے حائل ہونے کی وجہ سے کوئی جنگ نہ ہوسکی.

سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ :"خندق کے دن بہت زیادہ خوف بڑھ گیا تھا, لوگ ہمت ہار بیٹھے, بال بچوں اورمال ودولت پر خطرہ محسوس کیا جانے لگا.  قریش کے چند گھوڑسوارخندق کے ایک تنگ حصے کو تلاش کرکے اس میں اپنے گھوڑے کدادیے اور ان کی ایک جماعت نے خندق پار کر لیا, جن میں عمروبن ودّ بھی تھا جوسترسال کا تھا, وہ مسلمانو ں کو مبارزت کے لئے للکارنے لگا, توعلی رضی اللہ عنہ اسکے مقابلے کے لئے نکلے اوراسے جہنم رسید کردیا. 

جب صبح ہوئی تو انہوں نے ایک بہت بڑی ٹولی تیار کی جن میں خالد بن ولید بھی تھے, اورمسلمانوں سے رات تک لڑتے رہے, آپ (صلى الله عليه وسلم)کواس روزظہراورعصرکی نماز پڑھنے کا موقع نہیں مل سکا, توآپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا :"انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (عصر)سے روک دیا اللہ انکے گھروں اورقبروں کو آگ سے بھردے" پھراللہ نے اپنی طرف سے ایک ایسی تدبیرفرمائی جس سے دشمن پسپا ئی  اورجنگ بند کرنے پرآمادہ ہوگئے, اورانکی جماعتوں میں تفریق ڈالدی, وہ اسطرح کہ نعیم بن مسعود اسلام لے آئے, اورمشرکین اوریہود کواسکا علم نہیں ہوسکا, چنانچہ وہ –باری باری- قریش اوربنوقریظہ کے پاس گئے اورانھیں پسپائی اور ترک جنگ پر آمادہ کردیا. پھراللہ کی طرف سے ایک سخت ہوا چلی ,توابوسفیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا:"تم اپنے گھروں میں نہیں ہو, گھوڑے اوراونٹ سبھی ہلا ک ہوچکے, اورقریظہ نے اختلاف کرلیا, اورآندھی سے جو ہمارا براحال ہوا ہے وہ تمہارے سامنے ہے ,اسلئے کوچ کرچلو,میں تو واپس لوٹ رہا ہوں.  اس دن مشرکوں میں سے تین لوگ قتل کئے گئے,اورمسلمانوں میں سے چھ لوگ شہید ہوئے١.

 ١. انظر"الوفاءباحول المصطفى" ص (713-714) وزاد المعاد (3/269-275).


منتخب کردہ تصویر

مسابقة