Get Adobe Flash player

سن 6ھ میں جب آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے عمرہ پے نکلنے کےلئے کہا توصحابہ کرام نے جلدی کی, آپ(صلى الله عليه وسلم) چودہ سوصحابہ کرام کے ہمراہ روانہ ہوئے اس حال میں کہ آپ کے ساتھ مسافر کے ہتھیاریعنی نیام بند تلوار کے اور کوئی ہتھیار نہیں تھا, آپ کے اصحاب اپنے ہمراہ (قربانی کے) اونٹ بھی لےگئے, جب قریش کو اس کا علم ہوا توانہوں نے آپ کومسجد حرام سے روکنے کے لیے جتھے جمع کرلیے.

آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے صلاۃ خوف پڑھی, پھر مکہ سے قریب ہوئے,توآپ (صلى الله عليه وسلم) کی سواری بیٹہ گئی, تومسلمان کہنے لگے:" قصواء اَڑ گئی .

توآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا :"وہ اڑی نہیں ہے ,بلکہ اسے ہاتھی کوروکنے والے نے روک دیا, اللہ کی قسم!آج کے دن وہ مجھ سے جو بھے معاملہ کریں گے جس میں اللہ کی حرمتوں کی تعظیم ہوتو میں اسے ضرور  تسلیم کرلوں گا"

پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے اپنی اونٹنی کوڈانٹا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی, پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے واپس آکرحدیبیہ کے ایک کم پانی والے چشمے کے پاس نزول فرمایا, اور کمان سے ایک تیرنکال کراس کےاندرگاڑدیا, پھرتواس کے اندرسے اس قدر پانی ابلنا شروع ہوگیا کہ لوگوں نے اس کنویں سے اپنے ہاتھوں سے پانی بھرا. 

بدیل بن ورقاء نےواپس جاکرقریش کو(نبی (صلى الله عليه وسلم) کے آنے کے مقصد کی) خبردی, پھرانہوں نےعروہ بن مسعود ثقفی کوبھیجا, اس سے بھی آپ نے اسی طرح بات کی,اورصحابہ کرام نے اس کوایسے اموردکھلائےجوصحابہ کرام کے آپ (صلى الله عليه وسلم) سے عظیم محبت اورآپ کے حکم کی بجآوری پردلالت کرتے تھے. اس نےواپس جاکر جوکچھ سنا اوردیکھا تھا قریش کو اس سے خبردارکیا. پھرانہوں نے بنوکنانہ کے ایک آدمی حلیس بن علقمہ اوراسکے بعد مکرزبن حفص کوبھیجا. دریں اثنا کہ وہ آپ (صلى الله عليه وسلم) سے محوگفتگو تھا کہ سہیل بن عمرو تشریف لائے,ان کو دیکھ کرآپ (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا :"تمہارا معاملہ آسان ہوگیا"

پھردونوں فریق کے درمیا ن صلح ہوگئی, حالانکہ اگر مسلمان اسوقت دشمن کا مقابلہ کرتے توان پر کامیاب ہو جاتے,لیکن انہوں نے کعبہ کی حرمت کا پاس ولحاظ رکھا, صلح کے دفعات مندرجہ ذیل تھے:

1- دس سال تك فريقين كے مابین جنگ بند رہے گی. 

2-اس مدت میں لوگ امن سے رہیں گے, کوئی کسی پرہاتھ نہیں اٹھائے گا.

3- پیغمبر  (صلى الله عليه وسلم)اس سال (بغیرمکہ میں داخل ہوئے) لوٹ جائیں گے ,اورآئندہ سال انہیں مکہ میں آنے کا موقع دیا جائے گا.

4- قریش میں سے جوبھی شخص چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوگیا ہو, آپ کے پاس جاتا ہے تو آپ اسےلوٹا دیں گے,  لیکن اگر آپ کے پاس سے کو ئی آدمی قریش کے پاس جاتا ہے تو وہ اسے واپس نہیں لوٹائیں گے. 

5- قریش کے علاوہ کسی دوسرے قبیلے کا کوئی آدمی اگرمحمد کے عہدوپیمان میں داخل ہونا چاہے توایساکرسکتا ہے,اورجوقریش کے عہدوپیمان میں داخل ہونا چاہے وہ اس کے لیے آزاد ہے1. 

صلح حدیبیہ کے نتائج

بہت سارے صحابہ نے اس صلح کی مخالفت کی, اوراس کے دفعات میں انہیں مسلمانوں کے ساتہ ظلم وناانصافی اور جانبداری نظر آیا, لیکن مرورایا م کے ساتھ انہوں نے اس صلح کے بہترین نتائج اوراچھے انجام کا مشاھدہ کیا جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

1- قريش نے اسلامی سلطنت کے وجود کا اعتراف کرلیا, اس لئے کہ ہمیشہ معاہدہ دوبرابرکے فریقوں کے مابین ہی ہواکرتا ہے,اس اعتراف کا دیگرقبائل کے دلوں پربہت اثرپڑا.

2- مشرکوں اورمنافقوں کے دلوں میں رعب ودبدبہ پیدا ھوگیا,اوران میں سے بہتوں نے اسلام کے غلبہ کا یقین کرلیا,اوراس کے بعض مظاہرقریش کے بہت سے  سرداروں کی جانب سے اسلام کی طرف سبقت  کرنے میں  نمایاں ہوئے, جیسے: خالد بن ولید اور عمروبن عاص رضی اللہ عنہما. 

3- اس صلحہ نے اسلام کی نشرواشاعت کرنےاور لوگوں کو اس سے متعارف کرانے کا موقع فراہم کردیا جس کے نتیجے میں بہت سارے قبیلے اسلام میں داخل ہوگئے.

4- مسلمان قریش کی جانب سے مامون ہوگئے. لہذاانہوں نے اپنا بوجھ (پورا زور)یہود اوران دیگر قبائل پر ڈال دیاجومسلمانوں سے چھیڑچھاڑ کیا کرتے تھے,چنانچہ صلحہ حدیبیہ کے بعد ہی خیبرکی جنگ واقع ہوئی.

5- صلح کی بات چیت سے حلفاء قریش مسلمانوں کے موقف کوسمجھنے اوران کی طرف مائل ہونے لگے. چنانچہ  حلیس بن علقمہ نےجب مسلمانوں کو تلبیہ پکارتے ہوئے سنا توقریش کے پاس آکرکہنے لگا: میں نے ہدی کےاونٹ دیکھے ہیں جن کے گلے میں قلادے ہیں اور ان کے کوہان چیرے ہوئے ہیں, لہذا میں مناسب نہیں سمجھتا کہ انھیں بیت اللہ –خانہ کعبہ- سے روکا جائے.

6- صلح حلیبیہ نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کو غزوہ موتہ کی تیاری کے  قابل بنا دیا, اسطرح سے یہ جزیرہ عرب سے باہراسلامی دعوت کونئےاندازسے منتقل کرنے کےلئے ایک نیا قدم ثابت ہوئی.

7- صلح حدیبیہ سے آپ کو روم وفارس اورقبط (مصر) کے بادشاہوں کی طرف انہیں اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط ارسال کرنےمیں بہت مدد ملی.

8- صلح حدیبیہ فتح مکہ کا سبب اور پیش خیمہ ثابت ہوئی2.

1. (انظر:الوفاءص(716)لباب الخيارص(81-83).

 

2. (السیرۃ النبویۃ-الصلابی-ص(683-684  ) 

منتخب کردہ تصویر