Get Adobe Flash player

 اسلام وفاداری ,عہدوپیمان اورمواثیق کے احترام کا مذہب ہے, اللہ کا فرمان ہے :]  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِ [(سورة المائدة: 1)

’’اے ایمان والو! (اللہ سے کئے گئے) اپنےعہدوپیمان کوپورا کرو,,

نیزاللہ نے فرمایا : ] وَأَوْفُواْ بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْؤُولاً[(سورة الإسراء:34)

’’ اورعہدوپیمان کوپوراکرو,بےشک عہدومیثاق کے بارے میں (قیامت کے دن) پوچھا جائیگا,,

اورفرمایا : ] الَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اللّهِ وَلاَ يِنقُضُونَ الْمِيثَاقَ [(سورة الرعد:20)

’’ اورجولوگ اللہ سے کئے گئے وعدے کوپوراکرتے ہیں اورعہدشکنی نہیں کرتےہیں  ,,

اورآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا :"جس کا کسی قوم کے ساتہ عہدوپیمان ہوتواس کوہرگزنہ توڑے اورنہ ہی اس کو(مزید) مضبوط کرےیہاں تک کہ اس کی مدت پوری ہوجائے, یا برابری کے ساتھ ان کے عہد وپیمان کوفسخ کردے." (رواہ ابوداؤد والترمذی)

جب رسول  (صلى الله عليه وسلم)کے پاس مسیلمہ کذاب کے دوقاصد آئے اورانہوں نے جوکچھ بات کرنی تھی کیے توآپ نے فرمایا:"اگریہ بات نہ ہوتی کہ قاصدوں کوقتل نہیں کیا جاتا,تومیں تم دونوں کی  گردنیں اڑادیتا."  تبھی سے یہ قاعدہ بن گیا کہ قاصدوں کو قتل  نہیں کیا جائیگا. (رواہ ابوداود)

آپ  (صلى الله عليه وسلم)کے کافروں کے ساتہ ایفائے عہد کی مثالوں میں سے وہ واقعہ بھی ہے جوصلح حدیبیہ کے وقت  پیش آیا.اسی صلح میں جس کوآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے قریش کے سفیرونمائندہ سہیل بن عمروکے ساتہ پوراکیا, جس صلح کے دفعات میں سے یہ تھا کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے پاس قریش میں سے کوئی بھی شخص صلح کی مدت میں آئے گا گرچہ وہ مسلمان ہوگیا ہوتورسول اس کوواپس لوٹادیں گیں,ابھی وہ اس صلح کے بقیہ دفعات کولکھ ہی رہے تھے کہ اسی اثنا میں ابوجندل بن سہیل بن عمرو بیڑیوں میں جکڑے ہوئے آگئے, جومکہ کے نچلے حصے سے نکل کرآئے تھے اور آکر اپنے آپ کو مسلمانوں کے پا س ڈالدیا. توسہیل نے فرمایا :"اے محمد یہ پہلا آدمی ہے جس کے بارے میں, میں آپ سے تقاضا کرتا ہوں کہ آپ اسے میری طرف واپس لوٹادیں.توآپ (صلى الله عليه وسلم)  نے فرمایا:"ابھی ہم نے صلح کو آخری شکل نہیں دی ہے" توسہیل نے کہا:" تومیں ہرگزکسی چیزپرصلح نہیں کروں گا. تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا :"اسے میرے لئے چھوڑدو" تواس نے کہا : میں اسے آپ کے لیے نہیں چھوڑ سکتا, آپ نے فرمایا :" نہیں, اتنا تو کرہی دو" تواس نے کہا کہ میں نہیں کروں گا. توابوجندل تیز آواز سے چیخنے لگے:"اے مسلمانوں کی جماعت!کیا میں مشرکوں کی طرف واپس کردیاجاؤں تاکہ وہ مجھے دین سے برگشتہ کرنے کے لیے آزمائش میں ڈالیں جبکہ میں مسلمان ہوکرآیا ہوں؟ تورسول (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا :"اےابوجندل ! صبر واحتساب سے کام لو, بے شک اللہ تمہارے لئے اورتمہارے ساتہ جتنے بھی کمزورمسلمان ہیں انکے لئے آسانی کاراستہ پیداکریگا,ہم نے ان لوگوں کوصلح کا عہد و پیمان دے دیا ہے,اوراس پراللہ کا عہددے رکھا ہے تو ہم اسکی خلاف ورزی نہیں کریں گے." (رواہ البخاری) اسی طرح ابوبصیرثقفی جوقریش کے حلیف تھے بھاگ کرآپ (صلى الله عليه وسلم) کے پاس آئے,توقریش نے ان کوواپس طلب کرنے کے لیےدوآدمیوں کوبھیجا توآپ (صلى الله عليه وسلم) نے ان کوصلح حدیبیہ کے اتفاق کے بموجب واپس کردیا. اس میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کے کمال وفا, اورعہد و میثاق کی پاسداری واحترام کی دلیل ہے. باوجودیکہ ظاہری طورپراس عہد میں مسلمانوں کے ساتہ ظلم تھا.

کافروں کے ساتہ آپ  (صلى الله عليه وسلم)کے ایفائے عہد ہی کی دلیلوں میں سے وہ بھی ہے جسے براء رضی اللہ عنہ نےروایت کیا ہے کہ:جب آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے عمرہ کا ارادہ کیا تواہل مکہ کے پاس آدمی بھیج کران سے اجازت طلب کی توانہوں نےیہ شرط رکھی کہ آپ اسمیںصرف تین دن ٹہریں گے, اورہتھیاروں کونیام میں رکھکرداخل ہوں گے.اوران میں سے کسی کواسلام کی دعوت نہ دیں گے.

راوی کہتے ہیں کہ :علی بن ابی طالب ان کے درمیان اس شرط کولکھنے لگے توانہوں نے لکھا:"یہ وہ بات ہے جس پرمحمد رسول اللہ نے اتفاق کیا ہے.توانہوں نے کہا:"اگرہم جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں توہم آپ کوروکتے نہیں,بلکہ ہم آپ کي پیروی کرتے, لیکن اس طرح لکھو: یہ وہ شرط ہے جس پرمحمد بن عبداللہ نے اتفاق کیا ہے. تواللہ کے رسول (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا:"میں –اللہ کی قسم- محمدبن عبداللہ ہوں,اورمیں –اللہ کی قسم- اللہ کا رسول ہوں" اورآپ نےعلی رضی اللہ عنہ سے کہا :"رسول اللہ کا لفظ مٹادو" توعلی نے فرمایا:"اللہ کی قسم میں ہرگز اسے نہ مٹاؤں گا.

توآپ (صلى الله عليه وسلم) نے کہا:"مجهے اسے دکھاؤ", توعلی رضی اللہ عنہ نے اسے آپ کودکھایا,توآپ (صلى الله عليه وسلم) نے اسے اپنے ہاتہ سے مٹادیا,جب آپ (صلى الله عليه وسلم) مکہ میں داخل ہوگئے اورمدت پوری ہوگئی تووہ لوگ علی رضی اللہ عنہ کے پاس آکرکہنے لگے: اپنے ساتھی کوکہو کہ یہاں سے کوچ کریں, تو علی رضی اللہ عنہ نے آپ (صلى الله عليه وسلم)کو اس کی خبردی توآپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا :"ہاں"(ٹھیک ہے) پھرآپ (صلى الله عليه وسلم) مکہ سے کوچ کرگئے"(متفق علیہ)

اس سے معلوم ہوا کہ آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے جو ان سے وعدہ کیا تھااسے پوراکیا اورتین دن سے زیادہ مکہ میں نہیں ٹہرے .

آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے غدروخیانت اور وعدہ کی خلاف ورزی سے ڈراتے ہوئے فرمایا:"جس نے کسی شخص کواپنی جان پرامان دیا, پھراسے قتل کر دیا, تو میں قاتل سے بری ہوں اگرچہ مقتول کافرہی کیوں نہ ہو." (نسائی نے روایت کیا ہے اورالبانی نے صحیح کہا ہے)

اورآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا :"جس قوم نے بھی عہدوپیمان کوتوڑڈالا توانکے درمیا ن جنگ واقع ہوئی." (رواہ الحاکم وصححہ علی شرط صحیح مسلم, وصححہ الألبانی) 

آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے خیانت جووفا کی ضد ہے اس سے پناہ مانگی ہےجیساکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: "...اور میں خیانت سے پناہ چاہتاہوں کیونکہ یہ بہت بری رازدارہے." (رواہ ابوداود والنسائی وحسنہ الألبانی)

آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے غدروخیانت کوحرام قرار دیا ہے جيسا كہ آپ کا فرمان ہے :"قیامت کے دن ہرخیانت کرنے والے کے لئے ایک جھنڈانصب کیا جائیگا جسکے ذریعہ وہ پہچانا جائیگا"(متفق علیہ)

 

اورآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے واضح طورپربیان کر دیا ہے کہ آپ عہد شکنی نہیں کرتے,چنانچہ ارشاد فرمایا: "میں عہد کونہیں توڑتا." (رواہ احمد وابوداود وصححہ الألبانی)

منتخب کردہ تصویر