Get Adobe Flash player

 صلح حدیبیہ کے اتفاق میں یہ بات وارد ہوئی تھی کہ خزاعہ رسول  (صلى الله عليه وسلم)کے حلیف ہوگئے اوربکرقریش کے عہد میں داخل ہوگئے . پھرخزاعہ کے ایک آدمی نے جب بکرکے ایک آدمی کوآپ (صلى الله عليه وسلم)  کی ہجومیں اشعار پڑھتے سنا تو اسکومارکرزخمی کردیا,تواس طرح سے انکے مابین برائی بڑھ گئی. اوربنوبکربنوخزاعہ سے لڑائی کرنے پرآمادہ ہوگئے,اورقریش سے مدد طلب کی توقریش نے ہتھیاراورجانوروں کے ذریعہ ان کی مدد کی. اور ان کے ساتہ قریش کی ایک جماعت نے بھی چھپ چھپاکر لڑائی کی, جن میں سے صفوان بن امیّہ, عکرمہ بن ابی جہل,اورسہیل بن عمروشامل تھے. توخزاعہ نے حرم میں جاکرپناہ لی,مگربنوبکرنے حرم کی حرمت کا بھی پاس نہیں رکھا اوراس کے اندر خزاعہ سے لڑائی کی,اوران کے بیس سے زائد آدمیوں کوقتل کردیا.

اس  طرح قریش نے آپ (صلى الله عليه وسلم) سے کئے گئے صلح کے معاہدہ کوتوڑدیا,کیونکہ انہوں نے بنوبکر کی خزاعہ کے خلاف مدد کی جونبی (صلى الله عليه وسلم) کے حلیف تھے. جب بنوخزاعہ نے اس کی خبرآپ (صلى الله عليه وسلم) کودی توآپ نے فرمایا : "میں تم لوگوں کوضروراس چیزسے روکوں گا جس سے میں اپنے نفس کوروکتا ہوں".

 پھرقریش کواپنے کئے پرندامت ہوئی جسوقت ندامت  کا کوئی فائد نہیں, چنانچھ انہوں نے ابوسفیان کوآپ (صلى الله عليه وسلم)کے پاس حدیبیہ کے عہد کی تجدید اوراسکی مدت میں اضافہ کےلئے بھیجا. مگر آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے اس سے اعراض کیا اور اسے کوئی جواب نہ دیا.

توابوسفیان نے بڑے بڑے صحابہ کو اپنے اوراللہ کے رسول کے مابین سفارشی بنانا چاہا توسبھوں نے انکارکردیا.تواسرح ابوسفیان بغیرکسی عہدو پیمان میں کامیابی کے مکہ واپس آگیا.

قریش کے مسلمانوں کے ساتہ عہدوپیمان کی شکنی کرنے کیوجہ سے آپ (صلى الله عليه وسلم)نے مکہ  فتح کرنے اورکفارکوسبق سکھلانے کا عزم مصمم کرلیا.

جب رسول اللہ  (صلى الله عليه وسلم)نےفتح مکہ کی تیاری کی تواس معاملہ کو خفیہ رکھا, کیونکہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کا ارادہ یہ تھا کہ مشرکوں کے گھروں میں ان کے سر پر یکایک پہنچ جائیں. 

آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے عرب کے ارد گرد قبائل جیسے اسلم ,غفار,مزینہ ,جہینہ,اشجع,اورسلَیْم وغیرہ   کے لوگوں کو بلا بھیجا, یہاں تک کہ مسلمانوں کی تعداد دس ہزارکوپہنچ گئی.مدینہ میں آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے ابورھم الغفاری رضی اللہ عنہ کوجانشین بنایا ,اوربدھ کےدن رمضان کے تقریبا دس دن گزرنے کے بعد آپ نکلے اورمقام قدید میں پہنچ کرجھنڈے اور پھریرے باندھے.

قریش کوآپ کی روانگی کا پتہ نہ چلا, توابوسفیان کوخبرکا پتہ لگانے کے لئے بھیجا اوران سے کہدیا کہ اگرمحمد سے تمہاری ملاقات ہوتوہمارے لئے پناہ طلب کرنا.

ابوسفیان ,حکیم بن حزام اوربدیل بن ورقاء نکلے ,تو جب انہوں نے مسلمانوں کی فوج کودیکھا توخوفزدہ ہوگئے,توعباس رضی اللہ عنہ نے ابوسفیان کی آواز سن لی, فرمایا : ابوحنظله! توابوسفيان نےکہا: حاضر ہوں, توعباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ دس ہزارکے لشکرکے ساتھ رسول  (صلى الله عليه وسلم)ہیں,  چنانچہ ابوسفیان اسلام لے آئے, اورعباس رضی اللہ عنہ نے انہیں پناہ دیدی,اوروہ ان کو اورانکے دونوں ساتھیوں کو لے کر آپ  (صلى الله عليه وسلم)کے پاس آئے,اور وہ دونوں بھی اسلام قبول کرلیے.

آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایاکہ ابوسفیان کو اسلامی لشکرکے گزرگاہ میں کھڑا کریں تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے اسلام اور مسلمانوں کی قوت وطاقت کا مشاہدہ کرسکیں,عباس رضی اللہ عنہ نے آپ (صلى الله عليه وسلم)     کومشورہ دیا کیا کہ ابوسفیان کو کوئی اعزازعطافرمادیں کیونکہ وہ اعزاز پسند آدمی ہیں. اس پرآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا:"جوابوسفیان کے گھرمیں داخل ہوا وہ مامون رہے گا,اورجومسجد حرام میں داخل ہوگیا وہ بھی مامون رہے گا,اورجس نے اپنے دروازہ کوبند کرلیا وہ بھی مامون ہوگیا"

اورآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے لوگوں کوقتال کرنے سے روک دیا اوراپنے امراء کویہ وصیت کی کہ صرف اسی شخص سے قتال کیا جائے جوقتال کرے, چنانچہ مسلمانوں کوکسی مقابلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا سوائےخالد بن ولید کے, جن کوصفوان بن امیہ, سہیل بن عمرو,اورعکرمہ بن ابی جہل نے خندمہ کے مقام پرقریش کی ایک جماعت کے ساتہ مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا,اوران پرہتھیارسونت  لیے اورتیراندازی کی, توخالد رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں چیخ لگائی,اوران سے جنگ کی. مشرکین کے تیرہ آدمی قتل ہوئے اورپھرشکست سے دوچارہوئے ,اورمسلمانوں میں سے کرزبن جابر اور حبیش بن خالد بن ربیعہ شہید ہوئے.

آپ  (صلى الله عليه وسلم)کے لئے مقام "حجون" کے پاس خیمہ لگایا گیا,اورمکہ میں بغیرلڑائی کے (زبردستی) داخل ہوئے,تولوگوں نے چاھتے وناچاہتے ہوئے اسلام قبول کرلیا.آپ (صلى الله عليه وسلم) نے سواری ہی پر کعبہ کا طواف کیا,اورکعبہ کے اردگرد اسوقت تین سوساٹھ بت تھے , جب بھی آپ (صلى الله عليه وسلم) ان میں سے کسی بت کے پاس سے گزرتے تواپنی چھڑی(یاکمان) سے اس کی طرف اشارہ کرکے یہ پڑھتے:) جَاء الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا[  (سورة الإسراء:81) "

حق آگیا ,اورباطل سرنگوں ہوگیا اورباطل توسرنگوں ہی ہونے والا ہے" توبت منہ کے بل گرجاتے,اورسب سے بڑابت "ھبل " تھا جوکعبہ کے بالکل سامنے ہی تھا.

پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم)مقام ابراہیم کے پاس آئے, اوراسکے پیچھے دورکعت نمازپڑھی.پھرلوگں کے پاس گئےاورفرمایا :"اےقریش کی جماعت ! تمہاراکیا خیال ہے میں تمہارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں؟" تولوگوں نے کہا :بھلائی کا, آپ نیک بھائی ہیں , اور نیک بھائی کے بیٹے ہیں. توآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا :"جاؤ تم سب آزادہو",

 توآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے جبکہ اللہ نے آپ کوان پرتسلط عطا کیا تھا عفوعام کا اعلان کردیا,اور ظالموں اورمجرموں پر تسلط وقدرت کے بعد عفوودرگزرکرنے میں ایک بے نظیرمثال ونمونہ قائم کیا پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم)صفاکے پاس بیٹھے اورلوگوں سے اسلام پرقائم رہنے اورطاقت پھر سمع واطاعت کرنے کی بیعت لی, پھرلوگ پے درپے آنےلگے.

اوریہ فتح جمعہ کے دن  رمضان کے دس دن باقی رہنے پرہوئی,اس کے بعد آپ نے پندرہ راتیں مکہ میں گزاریں, پھرآپ (صلى الله عليه وسلم)حنین تشریف لے گئے.اورمکہ میں عتاب بن اسید کولوگوں کونمازپڑھانے کے لیے مقرر کرگئے اورمعاذ بن جبل اہل مکہ کو حدیث وفقہ کی تعلیم دیتے تھے1.

 

 1. (انظر:الوفاص718-720)هذاالحبيب يا محب ص(254)وصحيح السيرةص(407).

منتخب کردہ تصویر

 Im Dienste seiner Familie – Teil 2