Get Adobe Flash player

بچوں کے ساتہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی شفقت ومہربانی :

آپ  (صلى الله عليه وسلم)بچوں کے ساتہ بہت رحیم ومہربان تھے.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :"آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے حسن بن علی کا بوسہ لیا اورآپکے پاس اقرع بن حابس تمیمی بیٹھے ہوئے تھے,تواقرع نے کہا: "میرے پاس دس بیٹے ہیں میں نے ان میں سے کبھی کسی کو بوسہ نہیں لیا"توآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے ان کی طرف دیکھا پھرآپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: "جو دوسروں پررحم نہیں کرتا اسکے ساتہ رحم نہیں کیا جاتا." (متفق علیہ)

اورعائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:"آپ  (صلى الله عليه وسلم)کے پاس کچہ دیہاتی آئے اورکہنے لگے: کیا تم لوگ اپنے بچوں کا بوسہ لیتے ہو؟ تولوگوں نے کہا :ہاں,توانہوں نےکہا –اللہ کی قسم! ہم توان کا بوسہ نہیں لیتے,توآپ (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا:"اگراللہ نے تمہارے دلوں سے رحمت کوچھین لیا ہے توکیا میں اس کا مالک ہوں " (متفق علیہ)

ان دونوں حدیثوں میں آپ  (صلى الله عليه وسلم)کے بچوں کے ساتہ بڑی شفقت ومحبت کوبیان کیا گیاھے, اوریہ کہ بچوں کابوسہ لینا یہ رحمت وشفقت کے مظاہرمیں سے ہے. اورآپ (صلى الله عليه وسلم) کا ارشاد "جورحم نہیں کرتا اس پربھی رحم نہیں کیا جاتا" اس بات کی دلیل ہے کہ عمل کے حساب سے ہی بدلہ ہوتا ہے, توجوشخص بچوں کورحمت وشفقت سے محروم رکھے گا, اللہ تعالى قیامت کےدن اس کو  اپنی رحمت سے محروم کردے گا.

آپ (صلى الله عليه وسلم)  کے بچوں کے ساتہ شفقت و رحمت کی مثالوں میں سے یہ  ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) اپنے لخت جگرابراہیم کے پاس موت کے قریب جب وہ زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہوتے ہیں, داخل ہوتے ہیں توآپ (صلى الله عليه وسلم) کے آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں اورفرماتے ہیں:"بے شک آنکھیں اشکبار ہیں ,دل غمزدہ ہے,اورہم وہی کہتے جس سے ہمارا رب راضی ہے,اوراے ابراہیم ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں" ( بخاری)

چنانچہ آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے ايک طرف صبرورضا اور امرالہی کی بجاآوری میں اپنے رب كى عبودیت کےحق کوپوری طرح ملحوظ وقائم رکھا,اوردوسرى طرف اپنے بیٹے کی جدائی پرغمزدہ ہونے، آنسو بہانے اورشفقت ورحمت میں اس کے حق كوادا دیا, اوریہ عبودیت کی کامل ترین صورتوں میں سے ہے.

اورجب آپ (صلى الله عليه وسلم) کی بیٹی کے لڑکے کا انتقال ہوگیا توآپ (صلى الله عليه وسلم) کی آنکھوں سے آنسو بہ پڑے ,توسعد بن عبادۃ رضی اللہ عنہ نے کہا:یہ کیا ہے اے اللہ کے رسول! ؟ توآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا :"یہ وہ رحمت ہے جسے اللہ نے اپنےبندوں کے دلوں میں ڈالدیا ہے, اوراللہ تعالى' اپنے بندوں میں سے صرف رحم کرنے والوں پرہی رحم کرتا ہے" (متفق علیہ)

بچوں کے ساتہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی شفقت و مہربانی ہی میں سے یہ بھی ہے کہ :"آپ (صلى الله عليه وسلم) نے ایک یہودی غلا م کے پاس جوآپ کی خدمت کرتا تھا اس کی بیماری میں تشریف لے گئے,توآپ (صلى الله عليه وسلم) نے اس سے کہا: "لا اله الا الله " كہو"توغلام اپنے باپ کی طرف دیکھنے لگا,تواس کے باپ نے کہا : ابوالقاسم  (صلى الله عليه وسلم)کی بات مان لو,تواس بچہ نے کلمۂ لاالہ الا اللہ پڑھ لیا, توآپ (صلى الله عليه وسلم)  نےفرمایا : "هرقسم كي تعريف اس رب کےلئےہے جس نے اس کوجہنم سے بچا لیا"(رواہ البخاری)

اورآپ (صلى الله عليه وسلم) کےبچوں کے ساتہ شفقت ومہربانی ہی میں سے یہ واقعہ بھی ہے کہ انس بن مالک رضیی اللہ عنہ کا ایک بچہ جسکا نام عمیرتھا, اس کے پاس ایک چھوٹا سا پرندہ تھا جس سے وہ کھیلتا تھا,تواس پرندہ کا انتقال ہوگیا,تواس پربچہ بہت غمگین ہوا, تونبی رحمت  (صلى الله عليه وسلم)اس کے پاس غمخواری وتسلی اورہنسی ومزاح کے لئے تشریف لےگئے,اوراس سے فرمایا :"اے ابوعمیر! نغیر(چھوٹا پرندہ) کیا کیا"(متفق علیہ ) 

عبداللہ بن شداد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتےہیں کہ :"آپ  (صلى الله عليه وسلم)ہمارے پاس رات کی نمازوں میں سے ایک نمازمیں تشریف لائے, اسحال میں کہ حسن یاحسین  کوساتہ میں لئے ہوئے تھے. آپ (صلى الله عليه وسلم) آگے بڑھے,اوران کو اتارا, پھرنمازکے لئے تکبیرکہا, توآپ (صلى الله عليه وسلم) نے نماز کے درمیان ایک بہت لمبا سجدہ کیا, تو شداد نے جب سراٹھایا تودیکھا کہ بچہ آپ  (صلى الله عليه وسلم)کے کندھے پرہے,جب رسول (صلى الله عليه وسلم) نمازسے فارغ ہوئے تو لوگوں نے کہا,: اے اللہ کے رسول! بے شک آپ نے اپنی نماز کے دوران ایک لمبا سجدہ کیا ہے یہاں تک کہ ہم نےگمان کیا کہ کوئی نئی بات پیش آگئی ہے,یا آپ پرکوئی وحی نازل ہوئی ہے, توآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا :"ان میں سے کچھ بھی نہیں ہواہے, لیکن میرا یہ بیٹا مجہ پرسوارہوگیا تومیں نے جلدی کرنے کوناپسند کیا یہاں تک کہ وہ اپنی ضررت پوری کرلے"(رواہ النسائی وصححہ الألبانی)

آپ  (صلى الله عليه وسلم)کے بچوں کے ساتہ شفقت ومہربانی ہی میں سے یہ بھی ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) انصارکی زیارت کرتے ,انکے بچوں سے سلام کرتے اورانکے سروں پراپنا مبارک ہاتھ پھیرتے تھے" (رواہ النسائی وصححہ الالبانی)

كم سن بچوں کے ساتہ آپ (صلى الله عليه وسلم)کی شفقت ومہربانی کا ايک مظهریہ بھی ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے پاس بچوں کولایا جاتا تھا,توآپ (صلى الله عليه وسلم) انکے لئے برکت کی دعاکرتے اور انکی تحنیک کرتے تھے"(یعنی اپنےمنہ سےکھجورچبا کرانہیں دیتے تھے)  (رواہ مسلم) 

اورتبریک کے معنی یہ ہیں کہ آپ ان پر اپنا مبارک ہاتھ پھیرتے اورانکے لئے دعا فرماتے .

آپ (صلى الله عليه وسلم) نمازپڑھتے توامامہ بنت زینب کولئے رہتے جب سجدہ کرنا ہوتا توانہیں اتاردیتے اورپھرجب قیام میں جاتے تواٹھالیتے.

پس اللہ کی رحمت وسلامتی نازل ہوایسے مہربان رحمت والے نبی- (صلى الله عليه وسلم)- پر.

منتخب کردہ تصویر

ئاللاھ تائالانىڭ پەيغەمبەر ئەلەيھىسسالامنىڭ دۇئاسىنى ئىجابەت قىلغانلىقى (1)