Get Adobe Flash player

جودوسخا اورکرم وفیاضی اوررواداری میں آپ (صلى الله عليه وسلم) کا کوئی ثانی نہیں تھا.

آپ  (صلى الله عليه وسلم)کی سخاوت وفیاضی ہردرجہ کی سخاوت کوشامل تھی,اورجس کا اعلی' درجہ اللہ کے راستہ میں سخاوت نفس تھی.جیساکہ کہا گیا ہے:

 یجود بالنفس ان ضن البخیل بھا

                             والجودبالنفس أقصى غایة الجودِ

اگربخیل بخل سےکام لیتا ہےتووہ اپنے جان کوبھی قربان کردیتا ہے.

اسلئے کہ جان کی سخاوت وفیاضی یہ انتہائی درجہ کی سخاوت مانی جاتی ہے.

آپ  (صلى الله عليه وسلم)اللہ کے دشمنوں سے جہاد کرنے میںجان دینے کے لئے بھی تیاررہتے تھے, چنانچھ آپ لڑائی میں لوگوں کی بہ نسبت دشمن سے سب سے زیادہ قریب ہوتے تھے,اوربہادروطاتورہی آپ (صلى الله عليه وسلم) کےبرابر میں ہوتا یا آپ (صلى الله عليه وسلم) کے پاٍٍس  میں کھڑا ہوتا تھا. 

آپ اپنےعلم کی بھی سخاوت کرتے تھے,چنانچہ آپ صحابہ کرام کواللہ کی بتائی ہوئی تما م چیزوں کی تعلیم دیتے تھے,اورانہیں ہرطرح کی بھلائی کی تعلیم دینے کے بڑے حریص تھے,اورصحابہ کے ساتہ تعلیم میں نرمی بھی کرتے اورفرماتے تھے:"بے شک اللہ نے مجھے سختی کرنے والا اورتکلیف ومشقت میں ڈالنے والا بنا کرنہیں بھیجاہے بلکہ مجھے آسانی کرنے والا معلم بناکربھیجاہے." (رواہ مسلم)

اورآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا :"بے شک میں تمہارے لئے ایک والد کے درجہ میں ہوں میں تمہیں تعلیم دیتا" (رواہ احمد وابوداود وحسنہ الألبانی)

آپ (صلى الله عليه وسلم) سےجب کوئی سائل سوال کرتا تو بسااوقات آپ اسے زیادہ جواب دیتے تھے ,اوریہ علم کی سخاوت ھے.جیساکہ بعض صحابہ نے سمندر کے پانی کی طہارت کے سلسلے میں آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا:"اس کا پانی پاک ہے اوراس کا مردارحلال ہے." (رواہ احمد واصحاب السنن) 

لوگوں کی ضرورت وحاجت کی تکمیل اورانکی خیرخواہی کی کوشش میں آپ  (صلى الله عليه وسلم)اپنے وقت وراحت کی سخاوت کرنے میں سب سے عظیم تھے.اوراس سلسلہ میں یہی کافی ہے کہ مدینہ کی لونڈی آپ  (صلى الله عليه وسلم)کا ہاتھ پکڑکراپنی ضرورت کی تکمیل کے لئے مدینہ میں جہاں چاہتی لے جاتی تھی " (رواہ ابن ماجہ وصححہ الألبانی)

اورآپ  (صلى الله عليه وسلم)کی عظیم  جودوسخاوت پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جسے جابررضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ :"آپ  (صلى الله عليه وسلم)سے جب بھی کوئی چیزمانگی گئی توآپ نے "نہیں " نہ فرمایا " (متفق علیہ)

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :"اسلام کا واسطہ دیکر(یااسلام لانے پر)آپ سے جس چیزکا بھی سوال کیا گیا آپ نے اس کوعطاکردیا.

 انس رضی اللہ عنہ کہتے کہ ایک آدمی آپ کے پاس آیا, توآپ نے اسے دوپہاڑوں کے درمیان چرنے والی بکریاں عطاکیں,تواس نےاپنی قوم میں واپس جاکرکہا: اے میری قوم کے لوگو!اسلام لے آؤ.کیونکہ محمد  (صلى الله عليه وسلم)ایسا عطیہ دیتے ہیں کہ پھر فقروفاقہ  کا خدشہ نہیں رہ جاتا." (رواہ مسلم)

انس رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ : آدمی اسلام لاتا اوراس کا ارادہ صرف  دنیا کا ہوتا تھا,پھروہ شام نہیں کرتا تھا یہاں تک کہ اسلام اسکے نزدیک دنیا وما فیہا سے زیادہ محبوب ہوجاتا.

اورآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے غزوہ حنین کے بعد صفوان بن امیہ کوتین سو اونٹ عطا کئے, توانہوں نے فرمایا:"اللہ کی قسم !اللہ کے رسول نے مجھے بہت کچھ عطاکیا, اورآپ (صلى الله عليه وسلم) میرے نزدیک سب سے ناپسندیدہ تھے,توبرابرآپ مجھے عطاکرتے رہےیہاں تک کہ آپ  (صلى الله عليه وسلم)میرے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوگئے." (رواہ مسلم)

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :" آپ (صلى الله عليه وسلم) بھلائی کے اعتبارسے لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے,اورآپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوتے تھے,جب آپ سے جبرئیل علیہ السلام ملاقات کرتے تھے,اورآپ پرقرآ ن کا دورکرتے,توآپ (صلى الله عليه وسلم) بھلائی میں سخت ہوا سے بھی تیز ہوتے تھے." (متفق علیہ)

جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :" رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم)صحابہ کرام کے ہمراہ غزوہ حنین سے واپس آرہے تھےکہ دیہاتی آپ سے  چمٹ کر سوال کرنے لگے,یہاں تک کہ انہوں نےآپ کوپچھاڑکرایک ببول کے درخت کے پاس پہنچا دیا ,اورآپ کے چادر کو چھین لیا,تورسول (صلى الله عليه وسلم) رک گئے, اور فرمایا:"میری چادرکولوٹادو,الہ کی قسم! اگرمیرے پاس ان کانٹوں کے مقداراونٹ ہوتے تومیں انہیں تمہارے درمیان تقسیم کردیتا, پھرتم مجھے بخیل نہ پاتے, اور نہ ہی جھوٹا اوربزدل پاتے" (رواہ البخاری) 

بعثت سے پہلے بھی سخاوت آپ  (صلى الله عليه وسلم)کی عادت تھی ,جب آپ  (صلى الله عليه وسلم)پر غار حراء میں فرشتہ نازل ہوا ,توآپ کانپتے ہوئے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے توخدیجہ نے کہا: "ہرگزنہیں, اللہ کی قسم !اللہ آپ کوکبھی رسوا نہیں کرےگا, بے شک آپ صلہ رحمی کرتے ہیں, اورکمزوروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں ,اورمسکینوں کی خبرگیری کرتے ہیں,اورحق کے راستے میں پیش آنے والے مصائب میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں".

انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:"آپ (صلى الله عليه وسلم) آئندہ کل کے لئے کوئی چیز جمع کرکے  نہیں رکھتے تھے"(رواہ الترمذی وصححہ الألبانی) 

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: "انصارکے کچھ لوگوں نے رسول  (صلى الله عليه وسلم)سے سوال کیا توآپ نے انہیں دیا,پھرانہوں نے مانگا توآپ نے انہیں دیا, پھرانہوں نے مانگا توآپ نے انہیں دیا,یہاں تک کہ جب آپکے پاس کچہ نہیں رہ گیا, توفرمایا :"میرے پاس جوہوتا ہے اسے میں تم سے (چھپاکر) ذخیرہ کرکے ہرگزنہیں رکھتا , اورجوپاکدامنی اختیارکرتا ہے اللہ اسے پاک کردیتا ہے,اورجوبے نیازی اختیارکرتا ہے اللہ اسے بے نیازی عطاکردیتا ہے,اورجوصبرطلب کرتا ہے اللہ اسے صبرعطاکرتا ہے,اورصبرسے بہتراوروسیع عطیہ کسی کونہیں دیا گیا." (رواہ اصحاب السنن)

منتخب کردہ تصویر