Get Adobe Flash player

1- آپ  (صلى الله عليه وسلم)اپنا علاج خود کرتے تھے.اوراپنے اہل واصحا ب کو بھی بیماری لاحق ہونے پراسی کا حکم دیتےتھے.

2- آپ  (صلى الله عليه وسلم)کا ارشاد ہے :"اللہ نے جو بھی بیماری اتاری ہے اسکا علاج رکھاہے" (بخاری)

اورفرماتے :"اے اللہ کے بندو علاج کرو"(ابوداود, ترمذی, ابن ماجہ)

3- نبی  (صلى الله عليه وسلم)کے بیماری سے علاج کرنے کے تین طریقے تھے:

1- قدرتى علاج  2- شرعى علاج  3-  قدرتی وشرعى علاج

4- آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے حرام وخبیث اورشراب کے ذریعہ علاج کرنے سے منع فرمایا ہے.

 بے شک اللہ رب العزت نے نبی مختار(صلى الله عليه وسلم)   کو مبعوث کرکے اورآپ کی رسالت کی سورج کو ظاہرکرکے ہمارے اوپرنہایت ہی کرم واحسان کیا ہے اللہ کا ارشاد ہے :

[ لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُّبِينٍ[ (سورة آل عمران: 164) 

" بےشک مسلمانوں پراللہ تعالى' کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا جوانہیں اسکی آیتیں پڑھکرسناتا ہےاورانہیں پاک کرتا ہےاورانہیں کتاب اورحکمت سکھاتا ہے یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلے گمراہی میں تھے,,

بے شک رسول  (صلى الله عليه وسلم) کے ہمارے اوپر بہت سارے حقوق ہیں جن کا اداکرنا اوران پرمواظبت وہمیشگی برتنا ضروی ہے ,اوران کو ضیاع وبرباد کرنے اوران کی ادائیگی میں سستی وکاہلی سے بچنا ضروری ہے اورانھی حقوق میں سے یہ ہیں:

پانچواں حق: آپ (صلى الله عليه وسلم) کی دعوت کو عام کرنا 

بے شک یہ رسول  (صلى الله عليه وسلم) کے ساتہ وفاداری میں سے ہے کہ ہم پورے عالم میں اسلام کی نشرواشاعت اورآپ کی دعوت کی تبلیغ کریں,جیساکہ آپ (صلى الله عليه وسلم)   کا فرمان ہے :"میری طرف سے پہنچاؤ(تبلیغ کرو) گرچہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو" [بخاري]

اسی طرح آپ  (صلى الله عليه وسلم) کا ارشاد ہے: " اللہ تمہارے ذریعہ ایک آدمی کو بھی ہدایت کی توفیق دیدے تویہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہترہے."[متفق عليه ]

آپ (صلى الله عليه وسلم)  کا نسب: آپ کی کنیت ابوالقاسم اورنام محمدہے آپکا نسب نامہ اس طرح ہے:محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مُّرّۃ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فھربن مالک بن النضربن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن إلیاس بن مضربن نزار بن معد بن عدنان ہے.

 اس نسب پرسب کا اتفاق ہے.

اوراسی طرح اس پربھی اتفاق ہے کہ عدنان,  اسماعیل علیہ السلام کے اولاد میں سے تھے.

آپ(صلى الله عليه وسلم)  کا نام:

بعثت سے پہلے آپ  (صلى الله عليه وسلم) اپنی قوم میں سچائی وامانت داری سے مشہورتھے, اورآپ ان کے درمیان امین کے لقب سےجانے تھے, اوراس لقب سے وہی شخص متصف ہوتا ہے جوسچائی وامانت داری اور ان کے علاوہ دیگر خصال خیر میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو.

اورآپ (صلى الله عليه وسلم)  کی سچائی وامانت داری کي شہادت آپ کےدشمنوں نے بھی دی ھے ,جیساکہ ابوجہل آپ سے بغض وعداوت رکھنے اورآپ کی تکذیب کرنے کے باوجود آپ کوصادق وسچا جانتا تھا, اسی لئے جب ایک آدمی نے اس سے پوچھا کہ کیا محمد سچے ہیں یا جھوٹے؟ تو اس نے کہا : "تمہاری تباہی وہلاکت ہو اللہ کی قسم! یقیناً محمد سچے ہیں , محمد نے توکبھی جھوٹ بولا ہی نہیں, لیکن جب بنو قصیّ ہی  نبوت ونگہبانی (کعبہ کی پاسبانی) , سقایہ اور علمبردای لے لیں گے تو بقیہ قریش کیا کریں گے؟

اللہ تعالی' کا ارشاد ہے:

) وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ[ (سوره آل عمران:81-82)    

"اورجب اللہ نے نبیوں سے میثاق لیا کہ میں تمہیں جوکچھ کتاب وحکمت دوں, پھرتمہارے پاس کوئی رسول آئے جو تمہاری چیزوں کی تصدیق کرے, تو اس پرضرور ایمان لے آؤگے,اوراس کی ضرور مدد کروگے, اللہ نے کہا کہ کیا تم لوگوں نے اقرارکرلیا اوراس پرمیراعہد قبول کرلیا  ,انہوں نے کہا کہ ہم نے اقرارکرلیا, اللہ نے کہا,پس تم لوگ گواہ رہو, اورمیں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں, پس جس نے اسکے بعد اعراض کیا وہی لوگ فاسق ہیں"

علی بن ابی طالب اورآپ (صلى الله عليه وسلم)  کے چچا کے لڑکے عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ:" اللہ نے جتنے بھی انبیاء مبعوث فرمائے تمام سے یہ عہد لیا کہ اگرمحمد  (صلى الله عليه وسلم) کو اللہ نے مبعوث کیا اوروہ زندہ ہیں توتما م لوگ اس پرایمان لائیں گے اور اس کی مدد کریں گے. اوریہی عہد ان کی امتوں سے بھی لینے کا حکم دیا کہ جب وہ محمد کو بھیجے گا اوروہ اس وقت زندہ ہوں گے تو اس پرضرورایمان لائیں گےاوراس کی مدد کریں گے. 1

اورالله تعالى' ابراھیم علیہ السلام کی حکایت بیا ن کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

دشمنوں کے ساتھ آپ (صلى الله عليه وسلم)  کی رحمت ومہربانی:

یقیناً آ پ (صلى الله عليه وسلم)   ساری بشریت کے لئے رحمت بناکربھیجے گئے تھے ,جیساکہ  خود اللہ رب العالمین نے  صفت رحمت سے آپ کو موسوم کیا ہے:   ) وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ [ ( سورۃ الأنبیاء:107)  

’’اے نبی پاک آپ کو ہم نے سارے جہاں والوں کے لئے رحمت بناکربھیجا ہے"

اورآپ  (صلى الله عليه وسلم) کا ارشاد ہے :"بے شک میں رحمت بنا کربھیجا گیا ہوں" (رواہ مسلم)

آپ (صلى الله عليه وسلم)   کی رحمت عام تھی جومسلمان وکافرسب کوشامل تھی.

جانوروں اورجمادات کے ساتھ آپ (صلى الله عليه وسلم)  کی رحمت:

جیسا کہ ہم نے اس سےپہلے ذکرکیا ہے کہ رحمت نبوی (صلى الله عليه وسلم) اتنی وسیع تھی کہ کافروں کو بھی شامل تھی چہ جائیکہ موحد مسلمان کو. اوریہاں ہم اس بات کا اضافہ کررہے ہیں کہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) کی رحمت وشفقت جنس بشری سے تجاوز کرکے جمادات وجانوروں تک پہنچی ہوئی تھی, جیسا کہ آپ (صلى الله عليه وسلم)  کا ارشاد ہےکہ:"ایک آدمی کسی راستے سے گزررہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگ گئی, اس نےایک کنواں پایا  اس میں داخل ہوا اورسیراب ہوا, پھراس میں سےنکلا ہی تھا کہ ایک کتے کو ہانپتے ہوئے پایا جوشدت پیاس کی وجہ سے مٹی کوچاٹ رہا تھا, توآدمی نے کہا یقیناُ اس کوبھی میری ہی طرح پیاس لگی ہوئی ہے, پھروہ کنویں میں داخل ہوا اورموزے کوپانی سے بھرا,اورمنہ سے اسے پکڑ کرچڑھا.اورکتے کوسیراب کیا تواللہ نے اس کا اچھا بدلہ دیا اوراس کو بخش دیا "توصحابہ کرام نے کہا کہ اے اللہ کے رسول!کیا ہمارے لیےان چوپایوں کے ساتہ ہمدردی میں بھی ثواب ہے؟

توآپ  (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا :

معلوم ہونا چا ہئےکہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) کے فضائل ومناقب بہت زیادہ ہیں اورانہی میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

اللہ رب العالمین نے آپ کی مکارم اخلاق اوربہترین صفات کے ساتہ تعریف کی ہے, جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے:)

وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ[  ( سورة القلم:4)

’’بے شک آپ بلند اخلاق کے مالک ہیں"

اورآپ  (صلى الله عليه وسلم) کا ارشاد ہے: "میری بعثت تواچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے ہوئی ہے." (رواہ الطبرانی) 

آپ  (صلى الله عليه وسلم) پیرکے دن ماہ ربیع الاول کی دوتاریخ یا آٹہ یا دس یا بارہ تاریخ کو پیداہوئے, امام ابن کثیررحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: صحیح بات یہ ہےکہ آپ عام الفیل کو پیداہوئے جیساکہ امام بخاری کے استاد ابراہیم بن منذر اور خلیفہ بن خیاط وغیرہ نے اس پر اجماع بیان کیا ہے. 

سیرت نگارعلماء کا کہنا ہےکہ: "جب آمنہ حمل سے ہوئیں تو کہا مجہے کوئی بوجھ نہیں محسوس ہوئی, اورجب آپ  (صلى الله عليه وسلم) پیداہوئے توآپ کے ساتھ ایک ایسی روشنی نکلی جس نے مشرق ومغرب کو روشن کردیا.

Watch Makkah Live

ویب سائٹ کے مختلف زبانوں