Get Adobe Flash player

فالو کریں

Find نبی رحمت کی ویب سائٹ on TwitterFind نبی رحمت کی ویب سائٹ on FacebookFind نبی رحمت کی ویب سائٹ on YouTubeنبی رحمت کی ویب سائٹ RSS feed

ویب سائٹ کے مختلف زبانوں

1- آپ   (صلى الله عليه وسلم)سب سے فصیح ,اورشیریں بیان تھے,ادائیگی میں سب سے تیز اوربات چیت کے اعتبارسے بہت  میٹھےتھے.

2- آپ (صلى الله عليه وسلم) لمبی خاموشی اختیارکرتے تھے صرف ضرورت کے وقت ہی بات کرتے اورلایعنی وفضول بات سے اجتناب کرتے تھے, آپ انہیں چیزوں میں گفتگوکرتے جس میں ثواب کی امید ہوتی تھی.

3- آپ  (صلى الله عليه وسلم) جامع بات کرتے تھے,آپ  (صلى الله عليه وسلم) کی بات بالکل واضح وجدا ہوتی تھی کہ شمارکرنےوالا اسکوشمارکرلے.نہ توبہت جلدی جلدی بولتے کہ اسکو یاد نہ کیا جاسکے ,اورنہ  ہی رک کرسکتہ کرکے بولتے.

1- آپ (صلى الله عليه وسلم) چلتے توآگے کی طرف جھک کرچلتےتھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی بلندی سے اتررہے ہوں,آپ لوگوں میں سب سےبہتر,پرسکون اورتیزچلنےوالے تھے.

2- کبھی آپ  (صلى الله عليه وسلم) ننگے پیر چلتے توکبھی جوتوں میں چلتےتھے.

3- آپ   (صلى الله عليه وسلم)اونٹ ,گھوڑے, خچراورگدھے  پر  سوار ہوتے تھے, کبھی آپ بغیرزین کے گھوڑے پرسوارہوتے توکبھی زین کے ساتہ سوار ہوتے تھے.اورآپ اپنے پیچھے اورآگے لوگوں کوبٹھا لیتے تھے.

4- آپ   (صلى الله عليه وسلم)زمین ,چٹائی اوربسترپربیٹھتے تھے.

1- آپ   (صلى الله عليه وسلم)بے چینی کے وقت یہ دعا پڑھاکرتے تھے:"لا إله إلا الله العظيم الحليم,لا إله إلا الله رب العرش العظيم, لا إله إلا الله رب السموات ورب الأرض ,رب العرش الكريم"(متفق عليه)

الله كے سواکوئی معبودبرحق نہیں جو بزرگ اورحلیم ہے, اللہ کے سواکوئی معبود برحق نہیں جوعرش عظیم کا پروردگارہے, اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جوساتوں آسمانوں   ,زمین اورعرش کریم کا رب ہے .

2- آپ   (صلى الله عليه وسلم)کو جب کوئی رنج وغم لاحق ہوتا تو فرماتے :"يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث"

1- آپ   (صلى الله عليه وسلم)دن کےشروع میں اور جمعرات کے دن سفرکے لیے نکلنا پسند کرتے تھے.

2- آپ   (صلى الله عليه وسلم)رات میں تنہا سفرکرنے اورمطلق تنہا سفرکرنے کو ناپسند کرتے تھے.

3- آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے مسافروں کو یہ حکم دیا کہ جب وہ تین ہوں توان میں سے ایک کو اپنا امیروقائد چن لیا کریں.

4- آپ  (صلى الله عليه وسلم)جب سواری پربيـٹھتے تو تین مرتبہ "اللہ اکبر" کہتے پھر فرماتے :"  سُبْحانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ[ (سورة الزخرف: 13-14)

1- آپ  (صلى الله عليه وسلم)اپنا علاج خود کرتے تھے.اوراپنے اہل واصحا ب کو بھی بیماری لاحق ہونے پراسی کا حکم دیتےتھے.

2- آپ  (صلى الله عليه وسلم)کا ارشاد ہے :"اللہ نے جو بھی بیماری اتاری ہے اسکا علاج رکھاہے" (بخاری)

اورفرماتے :"اے اللہ کے بندو علاج کرو"(ابوداود, ترمذی, ابن ماجہ)

3- نبی  (صلى الله عليه وسلم)کے بیماری سے علاج کرنے کے تین طریقے تھے:

1- قدرتى علاج  2- شرعى علاج  3-  قدرتی وشرعى علاج

4- آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے حرام وخبیث اورشراب کے ذریعہ علاج کرنے سے منع فرمایا ہے.

 بے شک اللہ رب العزت نے نبی مختار(صلى الله عليه وسلم)   کو مبعوث کرکے اورآپ کی رسالت کی سورج کو ظاہرکرکے ہمارے اوپرنہایت ہی کرم واحسان کیا ہے اللہ کا ارشاد ہے :

[ لَقَدْ مَنَّ اللّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُّبِينٍ[ (سورة آل عمران: 164) 

" بےشک مسلمانوں پراللہ تعالى' کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا جوانہیں اسکی آیتیں پڑھکرسناتا ہےاورانہیں پاک کرتا ہےاورانہیں کتاب اورحکمت سکھاتا ہے یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلے گمراہی میں تھے,,

بے شک رسول  (صلى الله عليه وسلم) کے ہمارے اوپر بہت سارے حقوق ہیں جن کا اداکرنا اوران پرمواظبت وہمیشگی برتنا ضروی ہے ,اوران کو ضیاع وبرباد کرنے اوران کی ادائیگی میں سستی وکاہلی سے بچنا ضروری ہے اورانھی حقوق میں سے یہ ہیں:

پانچواں حق: آپ (صلى الله عليه وسلم) کی دعوت کو عام کرنا 

بے شک یہ رسول  (صلى الله عليه وسلم) کے ساتہ وفاداری میں سے ہے کہ ہم پورے عالم میں اسلام کی نشرواشاعت اورآپ کی دعوت کی تبلیغ کریں,جیساکہ آپ (صلى الله عليه وسلم)   کا فرمان ہے :"میری طرف سے پہنچاؤ(تبلیغ کرو) گرچہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو" [بخاري]

اسی طرح آپ  (صلى الله عليه وسلم) کا ارشاد ہے: " اللہ تمہارے ذریعہ ایک آدمی کو بھی ہدایت کی توفیق دیدے تویہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہترہے."[متفق عليه ]

ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

رمضان میں نبی کریم  (صلى الله عليه وسلم) کا طریقہ سب سے اکمل طریقہ تھا,اورمقصود کے حصول کے اعتبارسے سب سے عظیم تھا, اورنفوس پربہت ہی آسان تھا.

رمضان کی فرضیت2ھ میں ہوئی تھی ,اورنبی (صلى الله عليه وسلم)  نے نوبرس رمضان کاروزہ رکھ کروفات پائی.

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

آپ (صلى الله عليه وسلم)  افطارمیں جلدی کرتے اورلوگوں کو بھی اس پرابھارتے تھے,اورسحری کھاتے اورسحری کھانے پرابھارتےتھے ,سحری میں تاخیرکرتےاورلوگوں کو بھی اس کی ترغیب دیتےتھے.

آپ (صلى الله عليه وسلم)  کجھورسے افطارکرنے پرابھارتے ,اگرکجھورنہ ہوتا تو پانی سے , یہ آپ (صلى الله عليه وسلم)   کا اپنی امت کے ساتہ کمال مہربانی اوران کی خیرخواہی تھی, اس لئے کہ طبیعت  خالی معدہ کی صورت میں میٹھی چیز کو زیادہ قبول کرتی ہے اوراس سے تقویت حاصل کرتی ہے, خاص کرکے قوت باصرہ کیونکہ اس سے روشنی میں بڑھوتری حاصل ہوتی ہے .

منتخب کردہ تصویر

(لطفه صلى الله عليه وسلم)