Get Adobe Flash player

1- آپ (صلى الله عليه وسلم) خرید وفروخت کرتے تھے لیکن رسالت کے بعد آپ کی خریداری زیادہ  تھی, آپ نے اجرت پےکام کیا, اورلوگوں کواجرت پے رکھا بھی, وکیل بنایا اوروکیل بنے بھی لیکن آپ کی توکیل وکیل بننے سے زیادہ تھی.

2- آپ (صلى الله عليه وسلم) نے نقد اورقرض دونوں طرح سےخریداری کی, آپ نےدوسروں کی سفارش کی اورآپ کےپاس دوسروں کی سفارش کی بھی گئی,  گروی کے ذریعہ قرض لیا اوربغیرگروی کے بھی. اورآپ نے(سامان) عاریتاً بھی لیا.

3- آپ نے ہبہ دیا اورہبہ کولیا بھی, ہدیہ دیا اورہدیہ کوقبول بھی کیا,اوراسکا اچھا بدلہ بھی دیا, اوراگراس (کوقبول كرنے) کی چاہت نہ ہوئی  توہدیہ دینے والے سے معذرت کردی. آپ   (صلى الله عليه وسلم) کے پاس بادشاہوں کے ہدیے آتے تھے آپ انہیں قبول کرلیتے اورصحابہ کرام کے درمیان اسے تقسیم کردیتے تھے.

4- آپ   (صلى الله عليه وسلم)لوگوں میں سب سے اچھامعاملہ کرنے والے تھے, آپ جب کسی سے پیشگی قرض لیتے تواس سے اچھا بدلہ دیتے تھے, اوراسکے مال واہل میں برکت کی دعافرماتے تھے, ایک مرتبہ آپ نے ایک اونٹ قرض لیا تواسکا مالک آکرآپ سے قر ض کا مطالبہ کرنے لگا اورسختی سے پیش آیا, توصحابہ کرام نے اس کے قتل کا ارادہ کیا, توآپ  (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا :"اس كوچھوڑدو اس لئے کہ صاحب حق کوبولنے کا حق ہے." (متفق علیہ)

5- آپ   (صلى الله عليه وسلم)جہالت کرنے والوں کے ساتہ بردباری سے پیش آتے تھے,اورغصہ کرنے والے کو  یہ حکم دیتے کہ اپنے غصہ کووضوکےذریعہ, یا اگرکھڑا ہوتوبیٹھ کراورشیطان سے اللہ کی پناہ مانگ کرٹھنڈاکرلے.

6- آپ   (صلى الله عليه وسلم)کسی کے ساتہ کبروگھمنڈ سے پیش نہ آتے بلکہ آپ اپنے ساتھیوں کے ساتہ تواضع اورنرم گوشہ کواپناتے تھے اورہرچھوٹے بڑے کو سلام کرتے تھے.

7- آپ   (صلى الله عليه وسلم)مذاق بھی کرتے توحق بات ہی کے ذریعہ کرتے تھے, اورتوریہ کرتے توحق بات ہی کے ذریعہ توریہ کرتے تھے.

8- آپ   (صلى الله عليه وسلم)نے پیدل دوڑکا مقابلہ کیا,آپ  (صلى الله عليه وسلم) اپنے جوتے کو خود سلتے تھے, اوراپنے کپڑوں کو خود دھوتے ,اوراپنے ڈول کو خودبھرتے , اپنی بکری  خود دوہتے, اوراپنے کپڑوں کوخود پیوند  لگاتے, اوراپنی اوراہل  خانہ کی خدمت کرتے تھے,آپ صحابہ کےساتہ مسجد نبوی کی تعمیرمیں اینٹ ڈھوتے تھے.

9- آپ (صلى الله عليه وسلم) مخلوق میں سب سے وسیع الصدرتھے, اورنفس کے پاکبازتھے.

10- آپ   (صلى الله عليه وسلم)کو  دوچیزوں میں  اختیاردیا جاتا تواسمیں سے آسان ہی کو اپناتے جب وہ گناہ سے خالى ہوتا .

11- آپ   (صلى الله عليه وسلم)کسی ظالم سے ظلم کا بدلہ نہ لیتے تھے مگریہ کہ وہ اللہ کی حرمت کی پامالی کرے, جب وہ اللہ کی حرمتوں کو پامال کرتا توآپ سے زیادہ غضبناک کوئی نہ ہوتا تھا.

12- آپ   (صلى الله عليه وسلم)مشورہ دیتے تھے اورمشورہ لیتے بھی  تھے, مریضوں کی تیمارداری کرتے تھے,جنازہ میں حاضر ہوتے تھے, دعوت کو قبول کرتے تھے, کمزوروں, مسکینوں اور بیواؤں کی ضرورت کی تکمیل کی لئے ان کے ساتہ جاتے تھے.

13- آپ اس شخص کے لئے جوکسی پسندیدہ چیزکو آپ پرپیش کرتا دعا کرتے اورفرماتے  :"جس کیطرف کسی نے کوئی بھلائی کا کام کیا تواسنے اسکے لئے "جزاک اللہ خیرا" کہا یعنی اللہ آپکواسکا بہتربدلہ دے ,تواس نے انتہائی بلیغ تعریف  کی "(ترمذی)

__________________

(1) (زادالمعاد1/154)

منتخب کردہ تصویر

الرحمة بالحيوان