Get Adobe Flash player

آپ  (صلى الله عليه وسلم)لوگوں میں سب سےزیادہ بہادرتھے, اسکی دلیل یہ ہےکہ آ پ (صلى الله عليه وسلم)  تن تنہا کفرکے خلاف کھڑے ہوکرتوحید اوراللہ کی خالص عباد ت کرنے کی دعوت دینے لگے ,چنانچہ تمام کفارآپ (صلى الله عليه وسلم) کے درپے ہوگئے ,اورایک ہی کمان سے سبھوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) سے جنگ کی,اورسخت تکلیفیں پہنچائیں,اوربارا آپ کی قتل کی ناپاک سازش بھی رچی, لیکن یہ چیز آپ (صلى الله عليه وسلم) کو خوفزدہ نہ کرسکی, اور ایک پل کے لئے بھی آپ نرم گوشہ نہ اختیارکیے, بلکہ اس سے آپ اپنی دعوت پر اورزیادہ مصر رہے, اوراپنے پاس موجود حق پراور مضبوطی سے قائم ہوگئے, اورنہایت ہی بیزاری اور بلندی کے ساتھ سراٹھاکرزمین کے طاغوتوں کو چیلنج کرتے ہوئے فرمایا:"اللہ کی قسم !اگریہ میرے دائیں ہاتہ میں سورج   اور بائیں ہاتہ میں چاند رکھدیں کہ میں اپنے اس کام سے بازآجاؤں توایساکبھی نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اللہ اس امر(دین ) کوغالب کردے یا اس کی خاطر میری جان چلی جائے"

انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) سب سے بہترتھے,اورسب سے سخی تھے, اور سب سے بہادرتھے, ایک مرتبہ ایساہواکہ اہل مدینہ گھبراگئے اورلوگ آوازکی طرف چل پڑے, تورسول (صلى الله عليه وسلم) کو واپس آتے ہوئے پایا, جوآواز کی طرف پہلے ہی جاچکے تھے,اوروہ ابوطلحہ کے بے زین کسے گھوڑے پرسواراورگردن میں تلوار لٹکائے ہوئے تھے,اورکہہ رہے تھے:"ڈرونہیں, ڈرو نہیں. "(متفق علیہ)

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :"اسمیں بہت سے فوائد ہیں جن میں سے ایک : آپ  (صلى الله عليه وسلم)کی شجاعت وبہادری کا بیان ہےوہ اس طرح کہ آپ (صلى الله عليه وسلم)  تن تنہا اور لوگوں سے پہلے دشمن کی طرف جلدی سے نکل گئے, اورلوگوں کے پہنچنے سے پہلے ہی صورت حال کا پتہ لگاکرواپس آگئے"ا.ھ.

جابررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : هم خندق کے دن گڑھا(خندق) کھود رہے تھے کہ ایک سخت چٹان آڑے آگیا, تولوگ آپ  (صلى الله عليه وسلم)کولے کرآئے اورکہنے لگے کہ یہ سخت چٹان کھدائی کے دوران آڑے آگیا ہے توآپ  (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایا کہ : " میں اس میں اترتا ہوں" پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم)کھڑے ہوئے اورآپ کے پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے تھے,اورہم نےتین دن سے کچھ نہیں چکھا تھا, آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے کدال لیا اورچٹان پرمارا, توبھربھرے تودے میں بدل گیا.(رواہ البخاری)

یعنی یہ سخت پتھریا چٹان جسکو صحابہ کرام توڑنہ سکے ,آپ (صلى الله عليه وسلم) نے اس پراتنی سخت چوٹ ماری کہ   یہ ٹوٹ کربکھرے ہوئے ریت کے ٹیلے کے مانند ہوگیا, یہ آپ  (صلى الله عليه وسلم)کی طاقت وقوت کی دلیل ہے.

آپ  (صلى الله عليه وسلم)شجاعت وبہادری اورسختیوں کے وقت ثابت قدمی کے ایسے پہاڑتھے جسکا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا , اوراسکی مقدارکی بلندی کووہی ذات جان سکتی ہے جس نے آپ کو عظیم قوت وطاقت بخشی ہے یعنی رب العزت.

اسی لئے آپ  (صلى الله عليه وسلم)اپنی پوری جہادی زندگی میں جن لڑائیوں میں شریک رہے ان میں کبھی بھی یہ منقول نہیں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم)   اپنی جگھ سے ایک قدم یاایک انگشت پیچھے ہٹنے  کا دل میں خیال لائے ہوں ,  یہی وہ چیزہے  جس نے  صحابہ کرام کے بیچ آپ کومحبوب ,اور قابل اقتدا قائد بنادیا جسکے اشاروں پرہرچھوٹا بڑا دوڑ پڑتا تھا,صرف اس وجہ سےنہیں کہ آپ اللہ کے رسول تھے,بلکہ وہ آپکے اندر ایسی شجاعت وبہادری کا مشاہدہ کرچکے تھے جس کے مقابل میں اپنے آپ کو ہیچ سمجھتے تھے, جبکہ انکے اندربھی ایسے بہادرموجود تھے جنکی شجاعت وبہادری کی مثال دی جاتی تھی.١

اوراسی سلسلہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كہ:" جب لڑائی سرگرم ہوجاتی, اورلوگ ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہونے لگتے توہم آپ (صلى الله عليه وسلم) کے ذریعہ بچاؤ طلب کرتے تھے. اورہم میں سے اسوقت آپ سے زیادہ دشمن سے کوئی قریب نہ ہوتا"(احمد ونسائی)

اورعلی ہی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے :"ہم نے بدر کے دن دیکھا  ہےکہ ہم آپ (صلى الله عليه وسلم) کا آڑ لیتے تھے,اورہمارے بیچ آپ دشمن سے سب سے زیادہ قریب تھے, اس دن آپ سب سے زیادہ طاقتور تھے." (احمد نے روایت کیاہے)

غزوہ احد کے موقع پرابیّ بن خلف ملعون ومردود اپنے گھوڑے کولیکرآپ (صلى الله عليه وسلم) کوقتل کرنے کے ارادے سے بڑھا,اورکہنے لگا:"کہ اے محمد!یاتوتورہے گا یا میں رہوں گا,تولوگوں نے کہا: "اے اللہ کے رسول !کیا ہم میں سے کوئی اس پروار کرے؟ توآپ (صلى الله عليه وسلم) نے کہا : " اسے آنے دو"جب وہ قریب آیا توآپ (صلى الله عليه وسلم) نے حارث بن صمّۃ سے نیزہ لیا , اوراسے جھٹکا دیا,تو  صحابہ کرام ادھرادھراڑگئے ,پھرآپ (صلى الله عليه وسلم) نے اسکوسامنے رکھ کراسکی گردن میں ایک ایسا نیزہ مارا کہ وہ گھوڑے سے کئی بارلڑھک لڑھک گیا ,پھروہ قریش کی طرف واپس چلا گیا اورکہنے لگا :"کہ محمد نے مجھے قتل کردیا,  توان لوگوں نے کہا :تمہیں کوئی خاص چوٹ نہیں لگی ہے, تواس نے کہا :"اگروہ چوٹ (جو مجھے پہنچی ہے)تمام لوگوں کوپہنچتی تو  انہیں قتل کردیتی, کیا اسنے کہا نہیں تھا کہ :"کہ میں تجھے قتل کروں گا" اللہ کی قسم !اگروہ مجھ پر تھوک دیتا, تو بھی میری جان چلی جاتی, چنانچہ وہ مکہ لوٹتے ہوئے  راستےمیں ہی مرگیا"٢ 

اورغزوه حنين میں جب ہوازن نے چپکے سے تیر برسانا شروع کردیا تومسلما ن بھاگ نکلے اورنبی  (صلى الله عليه وسلم)دشمنوں کے بالمقابل ڈٹے رہے , اورآپ کہہ رہے تھے:

ميں نبی ہوں جھوٹا نہیں     میں عبدالمطلب کابیٹا ہوں٣

 اے اللہ !درودسلام نازل فرما اپنے نبی وحبیب محمد (صلى الله عليه وسلم)پر,اورآپکے ساتہ ہمیں اپنے کرامت کے گھرمیں جمع کر,اورآپ (صلى الله عليه وسلم) کے مبارک ہاتھوں سے جام کوثرکا پینا نصیب فرما ایسا پینا کہ اسکے بعد کبھی پیاس کی حاجت نہ محسوس ہو.آمین.

١. ممحمد (صلى الله عليه وسلم) الإنسان الکامل ص(188,189)

٢. (السیرۃالنبویہ لابن ہشام(3/174)

٣.  انظر:أخلاق النبي صلي الله عليه وسلم في القرآن والسنة (3/134)

منتخب کردہ تصویر

zamzam