Get Adobe Flash player

اسلام مطلق عدل وانصاف لے کرآیا ہے,جیساکہ اللہ کا فرمان ہے:] إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاء ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [ (سورة النحل: 90) 

’’ بے شک اللہ انصاف اوراحسان اوررشتہ داروں کو (مالی) تعاون دینے کا حکم دیتا ہے,اوربے حیائی اور ناپسندیدہ افعال اورسرکشی سے روکتا ہے, وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم اسے قبول کرو."

اوراللہ کافرمان :]   وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى[(سورة المائدة: 8) 

’’اوركسی قوم کی عداوت تمہیں اس بات پرنہ ابھارے کہ تم عدل وانصاف سے کام نہ لو, انصاف کرویہی بات تقوى' کے زیادہ قریب ہے."

آپ  ﷺکے عمومی عدل وانصاف کی مثالوں میں سے یہ ہے کہ ایک مرتبہ بنومخزوم کی ایک شریف عورت نے چوری کا ارتکاب کیا, تو قریش کواس عورت کے معاملہ نے غمگین کردیا, اور انہوں نے آپ ﷺ کے پاس حد کو روکنے کے سلسلہ میں سفارش کا ارادہ کیا, توانہوں نے کہا:اس کے لئے کون آپ سے بات کرے گا؟" پھر انہوں نے کہا :"اس کی جرأت تواسامہ بن زید جو رسول  ﷺکے چہیتے ہیں وہی کر سکتے ہیں,توان کولے کرآپ ﷺ کے پاس آئے,تواسامہ نے جب اس سلسلہ میں آپ ﷺ سے بات کی توآپ r کا چہرہ مبارک بدل گیا, اورفرمایا :"کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو"؟ تواسامہ نے کہا:"میرے لیے استغفار کردیجئے اے اللہ کے رسول !

جب شام ہوا توآپ  ﷺکھڑے ہوئے اورخطبہ دیا ,  اللہ کی حمدوثنا بیان کی, پھر فرمایا:"امابعد, بے شک تم سے پہلے لوگ اس بات کیوجہ سے ہلاک کردیے گئے,کہ جب ان میں کوئی شریف آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑدیتے, اورجب ضعیف وکمزورآدمی چوری کرتا تواس پرحد نافذ کرتے, اس ذات کی قسم جس کے ہاتہ میں میری جان ہے, اگرفاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کے ہاتہ کاٹ دیتا." (متفق علیہ) 

یہ ہے نبوی انصاف جوکسی شریف اورکمترکے بیچ, یا مالداروفقیرکے درمیان, یاحاکم ومحکوم کے درمیان تفریق نہیں کرتی , سب کے سب حق وانصاف کے ترازو میں برابرہیں. 

اورعدالت نبوی ہی کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ نعمان بن بشیررضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ :"میرے باپ نے مجھے ایک تحفہ دیا,توان کی والدہ عمرہ بنت رواحۃ نے کہا : اللہ کی قسم! میں اسوقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک کہ رسول  rگواہی نہ دیدیں, تووہ آپ  rکے پاس آئے, اورکہاکہ:" میں نے اپنے بیٹے کو جوعمرہ بنت رواحہ  سے ہیں, ایک ہدیہ دیا ہوں , تواس نے مجھے یہ حکم دیا کہ آپ کواس پرشاہد بناؤں, اے اللہ کے رسول !,توآپ r نے فرمایا :"کیا تونے اپنے باقی بچوں کوبھی اسی طرح دیا ہے؟ " توانہوں نے کہا نہیں,توآپ r نے فرمایا :"اللہ سے ڈرو اوراپنے بچوں کے بیچ انصاف کرو" پھربشیررضی اللہ عنہ لوٹ گئے اوراپنے عطیہ کوواپس لے لیا." (متفق علیہ) 

ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے کہا :"كيا تمہارے اس کے علاوہ بھی بیٹے ہیں؟" توانہوں نے کہا: هاں, توآپ r نے فرمایا:"کیا سب کو اسی جیسا دیا ہے؟" توانہوں نے کہا : نہیں, توآپ   ﷺ نے فرمایا :"میں ظلم وناانصافی پرگواہی نہیں دیتا" (متفق علیہ)

اورذوالخویصرہ تمیمی آپ ﷺ کے پاس آتاہے اس حال میں کہ آپ   مال(غنیمت) تقسیم کررہے ہوتے ہیں ,اورکہتا ہے:اےممحد! انصاف سے کام لیجئے,توآپ ﷺ‎  فرماتےہیں: "تیری تباہی ہو! جب میں نہیں انصاف کروں گا تو کون کریگا؟ یقیناً میں بربادی اورخسارہ میں رہوں گا اگرانصاف سے کام نہ لوں گا"(متفق علیہ)

آپ r ہی ہیں جن کواللہ نے فضیلت سے نوازا اورعادل قراردیا ہے اوراپنے وحی پرامین بنایا ہے توپھرآپ کیسے عدل وانصاف سے کام نہ لیں گے؟ جبکہ آپ r ہی کا فرمان ہے:"بے شک انصاف پروراللہ کے پاس نورکے منبروں پرجلوہ گرہوں گے, جواپنے حکم میں ,اھل وعیال اوررعایا (یا ماتحت لوگوں) کے ساتھ انصاف سے کام لیتے ہیں." (رواہ مسلم) 

جہاں تک بیویوں کے درمیان آپ rکے عدل وانصاف کرنے کی بات ہے توآپ ﷺ کما حقہ عدل وانصاف سے کام لیتے تھے, اس طورپرکہ آپ جس چیز کی تقسیم پر قادر تھے اسے ان کے درمیان مکمل انصاف کے ساتھ تقسیم کرتے تھے جیسے گھراورنان ونفقہ وغیرہ,چاھے سفرہویا حضر, آپ ہرایک کے پاس ایک رات گزارتے ,اورجوکچھ آپ ﷺ‎ کے پاس ہوتا ہرایک پر برابرخرچ کرتے تھے, اور ہرایک کے لئے ایک کمرہ تیارکروایا تھا, اورجب آپ سفرپرنکلنے کا ارادہ کرتے توان کے مابین قرعہ اندازی کرتے تھے اورجس کے نام کا قرعہ نکلتا تھا اسی کے ساتہ سفرکرتے. آپ نے اس بارے میں کبھی کسی طرح کی کمی وکوتاہی نہ برتی, یہاں تک کہ مرض موت میں بھی,آپ کو ہربیوی کے پاس اس کی باری  میں لے جایا جاتا تھا, اورجب آپ پریہ چیزشاق گزری ,اوران کو پتہ چل گیا کہ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھرمیں مستقرہونا چاہتے ہیں,توتمام بیویوں نے آپ کو اس بات کی اجازت دیدی کہ عائشہ کے گھر میں بیماری کے ایام گذاریں, چنانچہ آپ ﷺ انہیں کے پاس ٹہرے رہے یہاں تک کہ اللہ کوپیارے ہوگئے, ان بیویوں کے ساتہ اس قدر عدل و انصاف کے باوجود بھی آپ اللہ سے یہ معذرت کرتے تھے کہ :" اے اللہ !یہ میری تقسیم ہے جس پرمیں قدرت رکھتا ہوں ,تواے میرے پرودگاراس چیز پر میری ملامت نہ کرنا جس پرتوقدرت رکھتا ہے اور میں اس کے برتنے سے عاجزہوں ( 1 )" (رواہ ابوداود والترمذی)

آپ  rنے ایک بیوی کو نظر انداز کرکے دوسری بیوی کی طرف مائل ہونے سے بھی خبردارکیا ہے جیسا کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے:"جس شخص کے پاس دوبیویا ں ہوں , اوروہ ان میں سے کسی ایک کی طرف مائل ہوگیا,توقیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اسکا پہلو جھکا ہوا ہو گا" (رواہ مسلم)

1. (1) اخلاق النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی القرآن والسنۃ (3/1271).

منتخب کردہ تصویر

images1.jpg